خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 841
خطبات طاہر جلد ۸ 841 خطبه جمعه ۲۹ دسمبر ۱۹۸۹ء سارے مل کر ایک ایک روپیہ سال کا دے دیں۔اور مشترکہ طور پر کم سے کم معیار کو پورا کر دیں۔باہر کی دنیا کے لئے کم سے کم کوئی معیار با قاعدہ تو مقر ر نہیں لیکن مال کے شعبے کی طرف سے مشورہ یہ کہا جاتا ہے کہ دو پاؤنڈ مثلاً انگلستان کے لئے یا اس کی متبادل رقم یورپین امیر ملکوں کے لئے اگر ہو جائے تو یہ کم سے کم معیار سمجھنا چاہئے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، با قاعدہ کوئی فیصلہ نہیں ہے۔اگر آپ اپنے بچوں کو اس میں شامل کرنا چاہیں اور مالی مشکلات راہ میں حائل ہوں تو اگر پچاس پینس بھی ایک بچے کی طرف سے ادا ہو گا۔تو اس کا نام مجاہد وقف جدید کے طور پر لکھا جانا چاہئے اور آپ جماعتی لحاظ سے چھوٹی رقم دیکھ کر انکار نہ کریں۔سب سے بڑی برکت چندہ دینے والے کو اس کے رجحان کے نتیجہ میں ملتی ہے، چندے کی مقدار بھی اہمیت رکھتی ہے۔جماعت کو اس وقت بہت بڑے بڑے خرچوں کی ضرورت ہے۔اس میں شک نہیں لیکن جہاں تک چندہ دینے والے کا تعلق ہے، اس کے رجحان، اس کے خلوص کا اس کے ثواب سے بہت زیادہ تعلق ہے۔بنسبت اس کے کہ وہ کتنی رقم پیش کر سکتا ہے۔ایک غریب آدمی جو خدا کی محبت میں محض اللہ اپنی کسی ضرورت کو کاٹ کر چند پیسے بھی خدا کے حضور پیش کرتا ہے تو اس کا ایک خاص مرتبہ ہے جس مرتبے کو خدا پہچانتا ہے۔بندے اس کو پہچانیں یا نہ پہچانیں اور اس پہچان کے مطابق وہ اس سے سلوک فرماتا ہے۔اس لئے وقف جدید میں خصوصیت کے ساتھ میرا زور ہمیشہ اس بات پر رہا ہے کہ تعداد بڑھائیں اور کثرت کے ساتھ دوستوں کو اس میں شامل کریں کیونکہ بہت سے ایسے احمدی ہوں گے جو کسی چندے میں شامل نہیں ہیں۔اگر ان کو کسی ایک چندے میں بھی شمولیت کی معمولی توفیق مل جائے تو میرا یہ تجربہ ہے کہ پھر وہ تو فیق اپنی توفیق کو خود بڑھاتی رہتی ہے اور توفیق سے اور توفیق پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔نیکی میں بھی یہ خاصیت ہوتی ہے اور بدی میں بھی یہ خاصیت ہوتی ہے۔ایک قدم آپ بدی کی طرف بڑھا ئیں تو بدی کی ڈھلوان آپ کو اپنی طرف کھینچنے لگ جاتی ہے۔ایک قدم آپ نیکی کی طرف بڑھا ئیں تو بلندی کے باوجود آپ میں مزید توانائی پیدا ہوتی ہے اور مزید اوپر چڑھنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کا شوق پیدا ہو جاتا ہے پہاڑوں پر چڑھتے ہوئے مجھے بار ہا یہ محسوس ہوا کہ شروع میں جب دیکھا کہ بہت ہی بلند چوٹیاں ہیں تو ہمت جواب دیتی تھی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنی بلندی تک ہم اتنے وقت میں پہنچ جائیں گے لیکن جب انسان قدم اٹھانے شروع کر دے تو پھر اس کو پتا چلتا