خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 840
خطبات طاہر جلد ۸ 840 خطبہ جمعہ ۲۹ دسمبر ۱۹۸۹ء ہمارے نقصانوں کو اپنے فضل سے پورا کرے اور ہمارے نفعوں کو بڑھادے اور ہر پہلو سے جماعت کے لئے دنیا میں بھی اور آخرت کے لحاظ سے بھی یہ آنے والا سال پہلے سال سے بہت بہتر ثابت ہو۔یہ چونکہ سال کا آخری خطبہ ہے اس لئے روایات کے مطابق میں اسی خطبے میں وقف جدید کے سال نو کا اعلان بھی کرتا ہوں۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے وقف جدید کی تحریک پہلے پاکستان اور ہندوستان میں کلیۂ محدود تھی۔ان معنوں میں کہ چندہ بھی انہی دو ملکوں سے وصول کیا جا تا تھا اور خرچ بھی انہی دو ملکوں پر کیا جاتا تھا۔گزشتہ چند سال سے میں نے یہ تحریک کی کہ تمام دنیا پر ہند اور پاکستان کے احسانات ہیں اور ایک لمبا عرصہ گزر گیا تقریبا ایک صدی ہوگئی کہ ہندوستان اور پاکستان سے خدا کی راہ میں عظیم مالی قربانی کرنے والوں نے تمام دنیا میں پیغام حق کا بوجھ اٹھایا تو جذ بہ تشکر کے طور پر ایک تھوڑا سا ٹوکن اس بات کا ان کے حضور پیش کریں۔یعنی ٹوکن سے مراد ہے کہ ایک مثال کے طور پر کچھ قربانی کا نمونہ ان کے سامنے پیش کریں اور باقی دنیا کی جماعتیں یہ کہیں کہ ہم بھی تمہارے لئے کچھ چندہ اکٹھا کرتے ہیں جو تم پر خرچ ہو گا۔اس پہلو سے وقف جدید کی مالی تحریک کو سارے عالم پر ہم نے محیط کر دیا تھا۔سارے عالم پر اس کا اطلاق کر دیا تھا اور یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ سب جماعتیں کچھ نہ کچھ ہندوستان اور پاکستان میں چلنے والی اس تحریک کی مدد کریں۔اس تحریک کے بعض خاص ایسے پہلو ہیں جن کو جماعت کو پیش نظر رکھتے رہنا چاہئے۔یہ تحریک غیر معمولی چندے طلب نہیں کرتی لیکن اس کا زور اس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیادہ احمدی حسب توفیق بشاشت کے ساتھ اور خوشی کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور خدا کی راہ میں پیش کریں۔باقی تحریکات میں زیادہ تر مقابلے اس بات کے ہوتے ہیں کہ کون آگے بڑھتا ہے اور کون زیادہ خدا کی راہ میں لٹاتا ہے۔اس تحریک میں ملکوں کے مقابلے ہیں کہ کتنے زیادہ افراد خدا کی راہ میں مالی قربانی میں شامل ہوتے ہیں۔بچے بھی عورتیں بھی ، مرد بھی ، بڑے بھی چھوٹے بھی سب مل کر اور جہاں تک شمولیت کا تعلق ہے، جتنی بھی کوئی توفیق پاتا ہے اس کی دی ہوئی رقم کو خوشی سے قبول کیا جاتا ہے۔وقف جدید کے لئے جو کم سے کم معیار پاکستان میں مقرر تھا وہ چھ روپے کا تھا لیکن اس چھ روپے کے متعلق بھی ہم نے یہ اجازت دی تھی کہ اگر ایک غریب خاندان ہے جو سال میں چھ روپے بھی نہیں دے سکتا۔مثلاً ایسے خاندان میں چھ افراد ہیں۔ان میں سے ہر شخص چھ روپے نہیں دے سکتا تو