خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 825 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 825

خطبات طاہر جلد ۸ 825 خطبه جمعه ۲۲ / دسمبر ۱۹۸۹ء ان کا استدلال لیکن یہ استدلال فی ذاتہ محض بودا اور نکما استدلال ہے۔اس میں اس کی غلطیوں کے بہت سے پہلو ہیں جو بعض سابقہ خطبوں میں میں آپ کے سامنے رکھتا رہا ہوں لیکن آج تعریف کے نقطہ نگاہ سے ایک بات کھولنی چاہتا ہوں۔تعریف کے ایسے اجزاء بھی ہوا کرتے ہیں جو عام ہوں اور ایسے اجزاء بھی ہوتے ہیں جو تخصیص پیدا کرتے ہیں اور امتیاز پیدا کرتے ہیں مثلاً آپ جب کہتے ہیں کہ انسان کی تعریف یہ ہے کہ وہ حیوان ناطق ہو یعنی اس کا حیوان ہونا تو ضروری ہے لیکن اس کا حیوان ہونا کافی نہیں ہے اگر حیوان ہونا انسان کی تعریف کے لئے کافی ہو تو ناطق کی شرط بے معنی اور بے ضرورت ہو جاتی ہے اور جیسا کہ جسٹس منیر نے بڑی قابلیت سے شروع میں علماء کو سمجھایا تھا کہ پہلے تعریف کی تعریف سمجھ لو۔کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ واضح اور قطعی بات کرنا جس کا اطلاق اس نوع پر ہو جائے جس نوع کی تعریف کی جارہی ہے اور اس نوع کے علاوہ کسی اور پر اس کا اطلاق نہ ہوتا ہو۔یہ ہے دراصل مسلمان کی تعریف۔اس کو اپنے لفظوں میں جسٹس منیر نے علماء کے سامنے رکھا۔اب اس تعریف کی رو سے جب یہ کہا گیا کہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ پڑھنا ضروری ہے لیکن اسے کافی نہیں سمجھا گیا تو تعریف کا یہ حصہ عام ہو گیا۔جس طرح حیوانِ ناطق میں حیوان کا لفظ عام ہے لیکن کافی نہیں ہے۔ناطق وہ لفظ ہے جس نے امتیاز پیدا کیا ہے اور ناطق کے بغیر تعریف مکمل نہیں بنتی۔پس جب بھی علماء نے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے اوپر اس بات کا اضافہ کیا کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کا انکار کرے تو یہ تسلیم کر لیا کہ یہ تعریف عام ہے اور محض اس سے کسی کا اسلام ثابت نہیں ہوسکتا۔اس لئے ضروری ہے کہ اس میں یہ مزید اضافہ کیا جائے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا انکار کرے تب وہ تعریف مکمل ہوگی۔اب اس کی رُو سے ہم واپس کوٹ کر اس مثال کو پھر دیکھتے ہیں جس کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی حیوان ناطق۔اگر کوئی یہ قانون بنے کہ انسان کے سواکسی اور جاندار کو ایسی حرکتیں کرنے کا حق نہیں جو اس کو انسان سے مشابہہ قرار دیتی ہوں تو ہر حیوان جو انسان کے ساتھ بہت سی قدر مشترک رکھتا ہے اور انسان کی تعریف میں سے تعریف کا بھاری حصہ ہر دوسرے حیوان پر بھی صادق آتا ہے اس کو ایسی حرکتوں سے روکا نہیں جاسکتا جو انسان کے ساتھ مشترک ہیں کیونکہ تفریق کرنے والی علامت ناطق ہے۔پھر اگر ایسا قانون بنایا جائے کہ جو شخص