خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 823 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 823

خطبات طاہر جلد ۸ 823 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء میں اشارہ کیا گیا ہے اور جسٹس کیانی کو آپ میں سے بہت سے جانتے ہوں گے کہ بڑے ہی ذہین اور فطین انسان تھے اور بہت دلچسپ تبصرے کیا کرتے تھے۔ان کے تبصروں میں یہ تبصرہ ایک شاہکار ہے کہ مولا نا پندرہ سو سال آپ کو ملے ہیں، ڈیڑھ ہزار سال اور اب مزید مہلت دینا عدالت ہذا کے اختیار میں نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اس چودہ سو سال یا پندرہ سوسال ( پندرہ سو سال تو عموماً انہوں نے ایک راونڈ فگر کے طور پر بیان کئے ) عملاً چودہ سو سال سے کچھ عرصہ کم گزرا تھا۔اس عرصے میں جو تعریف پر ا کٹھے نہ ہو سکے اور اس وقت تک اتنا اختلاف رہا کہ جسٹس منیر یہ لکھنے پر مجبور ہو گئے۔انہی تعریفوں کے ذکر کے بعد کہ اب صورتِ حال یہ واضح ہوتی ہے کہ اگر ہم ان نو علماء کی تعریف سے اتفاق نہ کریں اور اپنی ایک الگ تعریف بنالیں تو ان سب کے نزدیک متفقہ طور پر ہم دائر کا اسلام سے خارج ہو جائیں گے۔یہ وہ آخری شکل تھی ۱۹۷۴ ء تک وسیع اسلامی تاریخ پر پھیلے ہوئے ان سارے موضوعات کی بحثوں کا جو خلاصہ علماء نے بیان کیا وہ آپ کے سامنے جسٹس منیر نے ان کے جوابات کی صورت میں رکھ دیا اور ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے متفق نہیں تھا۔اب سوال یہ ہے کہ اس ۱۹۵۳ء کے بعد سے لے کر ۱۹۷۴ء تک وہ کون سی نئی شریعت ان پر نازل ہوئی ہے جس کی رُو سے انہوں نے ایک متفقہ تعریف بنالی۔بہر حال جو تعریف بھی بنائی گئی اس میں پھر اس مصنف کے نزدیک ضیاء الحق صاحب نے ترمیم کی اور ترمیم شدہ صورت تعریف کی یہ نکلی کہ ”جو شخص اللہ کی وحدانیت اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر ایمان رکھتا ہو۔آپ کو آخری نبی مانتا ہو اور آپ کے علاوہ کسی بھی شخص کو نبی یا مصلح تسلیم نہ کرتا ہو وہ مسلم ہے“۔اس تعریف کی رو سے تمام وہ مسلمان جو اس سے پہلے قرونِ اولیٰ سے اب تک گزرے ہیں وہ سارے غیر مسلم بن جاتے ہیں کیونکہ اسلام کی تعریف جو قرآن نے کی ہے اس کی رُو سے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانا کافی نہیں ہے بلکہ تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے۔اسی طرح ملائکہ کا ذکر نہیں، یوم آخر کا ذکر نہیں، دیگر کتب پر ایمان لانے کا ذکر نہیں تو وہ سب جو ان باتوں پر ایمان لایا کرتے تھے اس تعریف کی رُو سے وہ دائرہ اسلام سے باہر نکل جاتے ہیں تو یہ کوئی آسان بات نہیں تھی۔بہر حال ایک سازش ہوئی اور اس کا آخری نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے مل کر یہ تعریف کی کہ جو شخص حضرت بانی سلسلہ کا انکار کرے وہی مسلم ہوگا اور محض کلمہ توحید کا اقرار اور کلمۂ رسالت کا اقرار جسے