خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 822
خطبات طاہر جلد ۸ 822 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء اور لا اله الا الله محمد رسول الله اپنی زبان سے ادا کرے وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔ ایک مسلمان کے لئے جن باتوں پر ایمان لانا ضروری تھا ان میں توحید، رسالت، فرشتوں، آسمانی کتابوں، خیر وشر کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا اور حیات بعد الموت شامل ہیں ۔ قادیانی جماعت ان جملہ باتوں پر ایمان رکھتی 66 ہے۔ (آمریت کے سائے ۳۷۴،۳۷۳) اس لئے کوئی آسان کام نہیں تھا کہ جماعت احمدیہ کو اس تعریف کی رُو سے باہر نکالا جاسکے ۔ پس ضیاء الحق صاحب نے یا اس سے پہلے ۱۹۷۴ء میں علماء نے مل کر جو سازش تیار کی وہ یہ تھی کہ ایسی تعریف کریں جس میں لا اله الا الله محمد رسول اللہ کو اور پانچ ارکانِ اسلام کو مسلمان بنانے کے لئے کافی نہ سمجھا جائے اور ایک ایسی زائد شرط لگا دی جائے جس کی رو سے احمدی جماعت باہر نکل جائے۔ باقی دوسرے فرقے بیچ میں رہیں یہ نہ رہیں۔ اس سے قطع نظر لیکن اس تعریف پر مزید گفتگو سے پہلے میں ایک اور دلچسپ بات آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔اس بحث کے آخر پر یہی مصنف لکھتے ہیں کہ مسلمان کی تعریف کے ہی سلسلہ میں جناب ارشاد احمد حقانی صاحب ایک خط کا ذکر کرتے ہوئے اپنے کالم روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ے ارفروری ۱۹۸۴ء میں تحریر کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس ایم ۔ آر۔ کیانی نے علماء سے مسلمان کی تعریف دریافت کی تو علماء نے آپس مشورہ میں کے بعد کہا تھا کہ ہمیں اس کے لئے کچھ مہلت دیجئے (تاکہ وہ تعریف بناسکیں ) تو جسٹس موصوف نے اپنے مخصوص انداز میں فرمایا کہ آپ کو ڈیڑھ ہزار سال کی مہلت مل چکی ہے اس سے زیادہ کی مہلت دینا اس عدالت کے اختیار میں نہیں“۔ (آمریت کے سائے صفحہ ۳۰۵) تو جس قوم کو ڈیڑھ ہزار سال میں اپنی ماہیت کی تعریف نہ معلوم ہوئی ہو اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال یا چودہ سو سال کے انتظار کے بعد ایک نئی تعریف ایجاد کرے جو سابقہ تمام تعریفوں کو ناکافی اور نا اہل قرار دے دے۔ یہ ہے بنیادی بحث جس کی طرف اس دلچسپ تبصرے