خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 820 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 820

خطبات طاہر جلد ۸ 820 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء کیا ہیں؟ تو اس کا جواب تھا کہ ضروریات دین وہ تقاضے ہیں جو ہر مسلمان کو معلوم ہیں خواہ وہ عالم دین ہو یا نہ ہو۔یعنی ضروریات دین اسلام کا وہ ظاہر و باہر تصور ہے جو دنیا کے ہر مسلمان کو معلوم ہے خواہ وہ عالم دین ہو یا نہ ہو۔جب سوال ہوا کہ وہ ضروریات دین گنوائیے تو سہی تو جواب دیا کہ میں نہیں جانتا۔میں تمام ضروریات کو بیان کرنے کا اہل نہیں ہوں۔کیسا تمسخر ہو رہا ہے یہ اسلام سے اور یہ وہ چوٹی کے علماء سمجھے جاتے تھے جو اینٹی احمد یہ ایجی ٹیشن یعنی جماعت کے خلاف تحریک کے سربراہ تھے۔مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ایک سیاسی مسلمان اور ایک حقیقی مسلمان۔سیاسی مسلمان کی دس شرطیں گنوائیں اور سیاسی مسلمان بننے کے لئے جو شرطیں ان کے نزدیک ضروری ہیں وہ یہ ہیں: توحید، ختم نبوت، تقدیر خیر وشر، ایمان بالآخرة ، قرآن آخری کتاب، ( دیگر کتب پر ایمان ضروری نہیں ہے ) ، حج ، زکوۃ ، مسلمانوں کی طرح نماز کی ادائیگی، تمام ظاہری قوانین جو اسلامی معاشرہ پر لاگو ہوتے ہیں اُن سب پر عمل پیرا ہونا۔(ملائکہ پر ایمان بیچ میں کھا گئے ہیں اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھی ) اور روزہ۔فرماتے ہیں یہ دس باتیں کرنے کے باوجود وہ صرف سیاسی مسلمان بنے گا۔ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان پر ایمان لانا ہی کافی ہے۔ان پر عمل کرنا سیاسی مسلمان ہونے کے لئے ضروری نہیں ہے۔سوال: کیا آپ کے نزدیک سیاسی اور حقیقی مسلمان میں یہی فرق ہوگا کہ جو ایمان لائے اور عمل نہ کرے وہ سیاسی اور جو ایمان لائے اور عمل بھی کرے وہ حقیقی مسلمان؟ تو جواب تھا: میرا مطلب یہ ہے کہ اگر چہ عمل ضروری ہے لیکن اگر کوئی ان باتوں پر عمل نہ بھی کرے تو وہ سیاسی مسلمان کی تعریف سے باہر نہیں نکلتا پھر عدالت نے سوال کیا : اگر کوئی سیاسی مسلمان آپ کی ان دس باتوں سے اتفاق نہ کرے یعنی یہ کہے کہ آپ نے جو دس باتیں ضروری قرار دی ہیں مجھے ان سے اتفاق نہیں ہے۔میں نہیں مانتا اس تعریف کو تو کیا آپ اس کو بے دین کہیں گے۔جواب نہیں نہیں۔میں اُس کو بے عمل کہوں گا۔یہ ہے خلاصہ اور آخر پر وہ لکھتے ہیں دسویں نمبر پر کہ صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے جو تعریف تحریری طور پر موصول ہوئی ہے وہ یہ ہے جو رسول اللہ کی امت میں سے ہو اور کلمہ طیبہ پر ایمان