خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 811 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 811

خطبات طاہر جلد ۸ 811 خطبه جمعه ۱۵/دسمبر ۱۹۸۹ء ہمدردی میں کسی قسم کے اجتماعی کام کی ، اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے وہاں جماعت احمدیہ کو اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں سے خصوصیت کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔مغربی دنیا میں عیسائی ہوں یا یہودی ہوں، جہاں وہ نیکی کا کام کرتے ہیں جماعت احمدیہ کو آگے بڑھ کر اُن سے تعاون کرنا چاہئے۔جہاں بھی مسلمان تنظیمیں کسی قسم کی نیکی کا کام کر رہی ہیں۔اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے اور ان سے تعلقات کو دوبارہ قائم کرنا چاہئے۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ قرآن کریم کے اس واضح پیغام کو سمجھنے کے بعد جماعت اب تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقوی کے دور میں داخل ہوگی اور بلند آواز سے ان کو دعوتیں دے گی کہ یاهْلَ الكِتبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا بَيْنَكُم کہ اے اہل کتاب! ہم تمہیں اس قدر مشترک کی طرف بلاتے ہیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک ہے اور وہ ساری نیکی کی باتیں جن کو تم بھی تسلیم کرتے ہو اور ہم بھی تسلیم کرتے ہیں، ہم تمہیں اُن نیکی کی باتوں میں تعاون کی دعوت دیتے ہیں اور تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔آپ یہ سب کچھ کریں گے۔مجھے یقین ہے کہ کریں گے اور خدا سے جزاء پائیں گے مگر جہاں تک احمدیت کے معاندین کا تعلق ہے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ اپنی راہ بدلنے والے نہیں۔وہ جس ضد پر قائم ہو چکے ہیں اُن کو صرف ایک چیز ہے جو اطمینان بخش سکتی ہے وہ ہے احمدیت کا کلیۂ صفحہ ہستی سے مٹ جانا اور جہاں تک ان کی اس مراد کا تعلق ہے ہم مجبور اور بے بس ہیں۔اس پہلو سے ہم اُن کے سینے ٹھنڈے نہیں کر سکتے بلکہ اس پہلو سے ہمارے مقدر میں یہ بات لکھ دی گئی ہے کہ ہم دن بدن بڑھتے چلے جائیں گے اور ترقی کرتے چلے جائیں گے اور ان کے سینوں کی یہ آگ اور زیادہ ، اور زیادہ بھڑکتی چلی جائے گی۔اس لئے نہیں کہ ہم اُن کو جلانا چاہتے ہیں اس لئے نہیں کہ ہم دنیا کو تکلیف دینے کے لئے بنائے گئے ہیں بلکہ اس لئے کہ یہ ایک بے اختیاری ہے خدا کی راہ میں آگے بڑھنا یہ ایک ایسا امر مجبوری ہے جس سے ہم باز نہیں آ سکتے۔اس کے بغیر ہماری زندگی بے حاصل اور بے معنی بن جاتی ہے۔پس ترقی کی راہوں میں آپ آگے بڑھتے چلے جائیں، تعاون کی روح کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جائیں لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ مخالفتیں پھر بھی کم نہیں ہوں گی۔یہ نہ سمجھنا کہ اس کے بعد مخالفتیں ٹھنڈی پڑ جائیں گی اور دشمن کو چین نصیب ہوگا۔دشمن کو صرف ایک چیز ہے جو چین دے سکتی ہے اور وہ آپ کی موت ہے۔آپ کی موت ہے جو دشمن کے دل کا سکون بن سکتی ہے لیکن آپ