خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 810 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 810

خطبات طاہر جلد ۸ 810 خطبه جمعه ۱۵/دسمبر ۱۹۸۹ء حج چونکہ عبادتوں کا معراج ہے اس لئے قرآن کریم نے حج کے مضمون میں یہ سارے مضامین بیان فرما دیئے ہیں۔فرماتا ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ۔اے خدا کے بچے اور مخلص بندو! یاد رکھ کسی قوم کی یہ دشمنی کہ اس نے تمہیں نیکی کے معراج سے روک دیا ہے وہ تمہارے اور حج کے درمیان کھڑی ہو گئی ہے اور تمہاری حج کی راہیں بند کر دی ہیں۔یہ بھی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ اُن سے تم کسی قسم کی زیادتی کرو۔یوں معلوم ہوتا ہے جس طرح احمدیوں کو سامنے رکھ کر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور احمدیوں کو مخاطب ہو کر ایک نصیحت کر رہی ہے۔فرمایا۔ان کی سب دشمنیوں کے باوجود، باوجود اس کے کہ انہوں نے تمہاری نیکی کی ہر راہ روکنے کی کوشش کی ہے۔تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَی۔تمہاری شان یہ ہے، یہ میرا تمہیں پیغام ہے اور یہی میری تم سے توقعات ہیں کہ تم نیکی کی ہر بات میں ان لوگوں سے تعاون کرو گے جو نیکی کی ہر بات میں تمہارے سے دشمنی کر رہے ہیں اور عدم تعاون نہیں بلکہ نیکی کی راہیں روکنے کے لئے چھاتیاں تان کے تمہارے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔تم نے ایسا نہیں کرنا۔وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔گناہوں میں اور زیادتیوں میں ان سے تعاون نہیں کرنا۔اب یہ دونوں پیغام دراصل جماعت احمدیہ کے اس دور پر کمال صداقت کے ساتھ اور کمال شان کے ساتھ اور کمال وضاحت کے ساتھ اطلاق پارہے ہیں۔پیغام یہ ہے کہ جب تم سے یہ بدی کی توقع رکھتے ہوں ، جب اس بات میں تعاون مانگیں کہ تم مسجدوں پر لکھے ہوئے کلمات مٹا دو۔لَا إِلَهَ إِلَّا الله محمدٌ رَّسُولُ اللهِ مٹادو۔بِسمِ الله کے لکھے ہوئے فلیگ اتار پھینکو یا سینے سے وہ بیج نوچ لوجن پر خدا کا نام لکھا ہوا ہے یا مسجدیں آباد کرنی بند کر دو یا نمازیں پڑھنی ختم کر دو۔ہر قسم کی نیکیاں جن کے متعلق یہ تم سے تعاون مانگ رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم سے تعاون کرو اور امن کی خاطر اور فساد کو دور کرنے کی خاطر تم ان سب نیکیوں سے باز آ جاؤ تو پھر ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس ملک میں امن قائم کر دیں گے۔فرمایا۔یہ وہ باتیں ہیں جن میں ان سے ہرگز تعاون نہیں کرنا۔کسی قیمت پر اس سے تعاون نہیں کرنا ہاں نیکیوں میں تعاون کے لئے اب بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے پیش کرو اور ہر وہ اچھی بات جو یہ کرتے ہیں اس میں آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ بٹانے کی کوشش کرو۔پس دنیا میں جہاں جہاں بھی اسلام کے غیر قوموں سے مقابلے ہورہے ہیں یا بنی نوع انسان کی