خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 808 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 808

خطبات طاہر جلد ۸ 808 خطبه جمعه ۱۵ارد سمبر ۱۹۸۹ء ہیں اور موسموں کے مطابق ہی فصلوں کو پھل لگتے ہیں اور باغوں کو پھل لگتے ہیں۔اب مباہلے کے بعد یہ موسم آ گیا ہے کہ آپ نیکیوں میں تعاون کی پیشکش کریں اور دوبارہ اپنے رُوٹھے ہوئے بھائیوں میں تعاون کی راہ سے داخل ہوں۔ان کی خدمتیں کریں اور اچھے کاموں میں ان کو خدمت کے لئے بلائیں کیونکہ تعاون سے مراد یہ نہیں کہ یک طرفہ خدمت کریں۔یہ وہ پہلو ہے جسے جماعت کو ضرور پیش نظر رکھنا چاہئے۔اگر وہ کیمپ لگانے والے احمدی لفظ تعاون پر پورا غور کرتے اور ان کو یہ پیشکش کرتے کہ ہم خدمت کر رہے ہیں آؤ دوسرے ڈاکٹر ز جو احمدی نہیں ہو، دوسرے نیک دل طالب علمو جو کچھ طبابت کا فن جانتے ہو، تم بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔بنی نوع انسان کی بھلائی کے تقاضے یہ ہیں کہ ہم مل کر ان کی خدمت کریں اور کوئی اختلافی عقائد زیر بحث نہ لائیں تو قرآن کریم کی تعلیم کے عین مطابق ہوتا اور اس صورت میں آپ کی حفاظت کے بھی بہتر سامان ہوتے۔پس اب تعاون کی راہ کو اختیار کریں کیونکہ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ میں در اصل تعاون کی تعلیم دی گئی ہے۔چنانچہ سورۂ آل عمران کے بعد سورہ مائدہ میں اسی مضمون کو تعاون کے رنگ میں کھول کر بیان فرما دیا گیا جیسا کہ سورہ مائدہ آیت ۳ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور وہ مضمون جس کی انتہا تعالوا إلى كَلِمَةٍ پرٹوٹی تھی ، اُسے قرآن کریم نے سورہ مائدہ کے آغاز ہی میں پھر اُٹھا لیا اور ان لفظوں میں مخاطب ہوا۔وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدۃ:۳) دیکھئے! یہ مضمون کتنی وضاحت کے ساتھ اور کتنی عمدگی کے ساتھ جماعت احمدیہ کے حالات پر صادق آتا ہے۔آپ نے بار بار امت محمدیہ کے لئے قربانیاں دیں۔تمام دنیا میں اسلام کے جہاد کا آغاز اس دور میں جماعت احمدیہ نے کیا۔مُلک مُلک اور براعظم سے براعظم اس جہاد کو پہنچایا۔جب اس خدمت کے لئے آپ میدان میں نکلے تھے تو اور کوئی آپ کا شریک، کوئی سانبھی، کوئی رقیب نہیں