خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 807 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 807

خطبات طاہر جلد ۸ 807 خطبه جمعه ۱۵/دسمبر ۱۹۸۹ء آپ کو پیش کریں خواہ اس تعاون کی راہ میں آپ کو قربانی بھی دینی پڑے۔یہ امر واقعہ ہے کہ جہاں نفرتیں پنپ رہی ہوں وہاں تعاون کی وجہ سے بھی بعض دفعہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ابھی حال ہی میں بہاولپور سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں احمدی طالب علموں کی اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم جو علاقے میں محض بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے کیمپ لگایا کرتی تھی اور غریب اور نادار مریضوں کے لئے دوائیاں بھی خود لے کر جاتی تھی تا کہ ان کی تشخیص بھی کرے اور مفت علاج بھی مہیا کرے۔ان میں سے ایک ٹیم کے متعدد افراد اس الزام میں قید کر لئے گئے ہیں کہ تم نے خدمت خلق کا یہ کیمپ کیوں لگایا ہے؟ اس سے مسلمانوں کے دل مجروح ہوئے ہیں اور ان کی بڑی سخت بے عزتی ہوئی ہے یعنی حد سے زیادہ ان کی دل آزاری کی گئی ہے کہ احمدی اٹھ کے بنی نوع انسان کی خدمت کے لئے نکلے ہیں۔جو بھی بہانہ بنایا گیا، جو بھی عذر تراش کیا گیا۔بنیادی نقطہ یہی ہے کہ علماء اس بات پر آگ بگولہ ہو گئے که احمدی بنی نوع انسان کی خدمت کیلئے نکلتے ہیں پس نیکی پر تعاون سے بھی بعض اوقات سز املا کرتی ہے لیکن یہ سزا ہمارے مقدر میں ہے۔یہ سزائیں ہمارے راستے روک نہیں سکتیں اس لئے اور جو چاہیں حکمت کی راہ اختیار کریں نیکی میں تعاون کی راہ میں اگر بعض حائل ہو اگر تعصبات حائل ہوں، اگر نفرتیں حائل ہوں، اگر دکھ بھی اٹھانے پڑیں تو نیکی میں تعاون سے باز نہیں آنا بلکہ اس تعاون کے دائروں کو بڑھاتے چلے جانا ہے۔یہ کام احمدی کو صرف پاکستان میں ہی نہیں، ساری دنیا میں کرنا ہے اور ہم سب دنیا میں مختلف رنگ میں کر رہے ہیں لیکن اب جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، ہم تیسرے دور میں داخل ہوئے ہیں تو اپنے بھائیوں کو اب یہ پیغام نہ دیں کہ آؤ اور ہم سے بخشیں کرو۔اگر چہ کچھ عرصہ کے بعد یہ دور پھر شروع ہو جائے گا۔یہ مراد نہیں ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جب مباہلے کے بعد تعاون کے لئے بلایا تو پھر ہمیشہ کے لئے مناظرے کی راہیں بند ہو گئی تھیں۔میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ ان ادوار میں مجادلے بار بار حرکت میں آتے ہیں۔انہیں ادوار میں اور اسی ترتیب سے بار بار روحانی اور مذہبی مقابلے ہوا کرتے ہیں۔پس یہ ترتیب پھر بھی جاری ہو گی مگر اس وقت ہم جس دور میں ہیں، یہ تیسرا دور ہے پس قرآن کریم کے حکمت کے پیغام کو سمجھیں اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔اس پیغام میں ہمارے لئے بہت ہی فوائد مضمر ہیں۔ہر موسم کے مطابق کام کئے جاتے ہیں۔موسم کے مطابق فصلیں ہوئی جاتی ہیں موسم کے مطابق باغ لگائے جاتے