خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 803 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 803

خطبات طاہر جلد ۸ 803 خطبه جمعه ۱۵/دسمبر ۱۹۸۹ء روٹھنے کا کیا مقام ہے یا اُن میں روٹھنے کا کیا جواز بنتا ہے۔آپس میں تعلقات کو اب اس اصل پر استوار کرو کہ جو اچھی باتیں تم بھی تسلیم کرتے ہو اور ہم بھی تسلیم کرتے ہیں تم بھی انہیں حق سمجھتے ہو اور ہم بھی انہیں حق سمجھتے ہیں اُن اچھی باتوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریں اور بنی نوع انسان کے فائدے کی کوئی صورت بنا ئیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تاریخ بھی انہیں تین ادوار کی صورت میں یکے بعد دیگرے ظاہر ہوئی اور آپ کی ساری زندگی کی جد وجہد کا خلاصہ یہی بنتا ہے کہ آپ کے جہاد کا آغاز مجادلے سے ہوا اور مناظرے سے ہوا اور استدلال سے ہوا اور حجت سے ہوا۔چنانچہ براہین احمدیہ آپ کی وہ پہلی کوشش تھی جس کے ذریعے آپ نے اسلام کو، اسلام کے مد مقابل لوگوں کے سامنے بڑے بھاری استدلال اور برہان کے ذریعے پیش کیا۔جب یہ دور اپنے طبعی نقطۂ معراج کو پہنچا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محسوس کیا کہ اب مناظروں سے فائدہ کوئی نہیں تو آپ نے اعلان فرمایا کہ اب میں مزید مناظروں میں نہیں الجھوں گا۔تب آپ نے مباہلے کا طریق اختیار کیا اور یہ مباہلے کا دور بھی ایک لمبے عرصے تک جاری رہا اور اس کے نتائج خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جس رنگ میں بھی ظاہر ہوئے آج تک جماعت اُن سے استفادہ کرتی چلی جارہی ہے اور آئندہ ہمیشہ مباہلے کے اُس عظیم الشان دور سے جماعت استفادہ کرتی رہے گی۔اس دور کے اختتام پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی وہی تیسری راہ اختیار کی جو قرآن کریم نے دکھائی تھی اور آپ کا آخری پیغام اپنے معاندین اور مخالفین کے نام ”پیغام صلح کا پیغام تھا یعنی وہ پیغام جو آپ کے آخری رسالہ ”پیغام صلح میں طبع ہوا لیکن اُس سے پہلے آپ نے مختلف رنگ میں بار ہا دشمنوں کو تعاون کی طرف بلایا اور یہ پیشکش کی خصوصیت سے مسلمانوں کو کہ جن باتوں میں تم بھی ایمان رکھتے ہو اور میں بھی ایمان رکھتا ہوں۔جن باتوں میں تم بھی اسلام کے لئے خیر خواہی کے خواہاں ہو اور ہمارا آپس میں کوئی اختلاف نہیں اور میں بھی خیر خواہی کا خواہاں ہوں اور تمہیں اس بارہ میں مجھ سے کوئی اختلاف نہیں، اُن باتوں میں مل کر اسلام کی خدمت کیوں نہ کریں اور اگر مل کر خدمت نہیں کر سکتے تو کم سے کم تم مجھ سے لڑنا جھوڑ دو۔مجھے کچھ عرصہ مہلت دو کہ میں تنہا اسلام کے دو۔۔جری پہلوان کی طرح اسلام کے ہر دشمن کے مقابلہ کے لئے ہر لڑائی کے میدان میں نکل کھڑا ہوں۔تم