خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 797
خطبات طاہر جلد ۸ 797 خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۸۹ء تھا اور کیا اس کے عزیزوں اور بزرگوں کے اب تک یہی عقائد ہیں؟ پھر اس میں ایک الزام درج تھا کہ ان کی عبادت کی جگہ عزت واحترام میں خانہ کعبہ کے برابر ہے۔اب یہ اس گواہ سے گواہی لے کر بتائیں کہ واقعہ جب تک یہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوا اس وقت تک اس کا یہی عقیدہ تھا کہ جماعت احمدیہ کی عبادت گاہیں عظمت اور احترام کے لحاظ سے خانہ کعبہ کے برابر ہیں۔پھر ان الزامات میں ایک یہ بھی تھا کہ ”بانی سلسلہ احمدیہ نے شرعی نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور نئی شریعت لے کر آئے اور قرآن کریم کے مقابل پر احمدیوں کی کتاب تذکرہ ہے جسے وہ قرآن کے ہم مرتبہ قرار دیتے ہیں۔پوچھیں اب اس گواہ سے، یہ اعلان کرے چنیوٹی صاحب کی صداقت کا کہ واقعہ جب تک میں منظور چنیوٹی صاحب کے ہاتھ پر تائب ہوکر مشرف بہ اسلام نہیں ہوا، میرا یہی عقیدہ تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ شرعی نبی ہیں اور نئی شریعت لے کر آئے ہیں اور وہ نئی شریعت کی بھی نشاندہی کرے کہ کون سی نئی شریعت لے کر آئے ہیں اور پھر یہ بھی بتائے کہ ہاں میرے والدین اور میرے دیگر بزرگ ابھی تک اسلام کے سوا اس نئی شریعت پر کار بند ہیں۔پھر یہ بھی دعوی تھا کہ احمدیوں کا کلمہ الگ ہے مسلمانوں والا نہیں۔وہ کلمہ پڑھ کر سنائے۔اعلان کرے چنیوٹی کے حق میں کہ ہاں یہ سچ کہا کرتا تھا اور واقعتا کلمہ الگ ہے اور یہ کلمہ میں پڑھا کرتا تھا اور یہی کلمہ میرے بزرگ آج تک پڑھتے ہیں۔پھر اس میں یہ الزام شامل تھا کہ ” جب احمدی مسلمانوں والا کلمہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ پڑھتے ہیں یعنی جب ظاہر پڑھتے ہیں تو دھوکہ دینے کی خاطر پڑھتے ہیں اور محمد سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔اب یہ اس نشان سے گواہی لیں اور اس کا اعلان شائع کریں کہ یہ جب تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوا حضرت رسول کریم ﷺ کا نام جب کلمہ میں پڑھتا تھا اگر پڑھتا تھا تو ہمیشہ اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیا کرتا تھا اور اس کے بزرگ آج تک یہی کام کرتے ہیں۔پھر اس میں یہ الزام تھا کہ احمدیوں کا خدا وہ خدا نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کا اور قرآن کا خدا ہے۔گواہی دے اب یہ نشان کہ واقعہ جب تک میں نے تو بہ نہیں کی میرا خدا وہ خدا نہیں تھا جو