خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 786
خطبات طاہر جلد ۸ 786 خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۸۹ء رکھا ہوا ہے اور جیسا وہ تصور میں آتا ہے ناں کہ دوفرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کے مسیح نازل ہوگا اس طرح گویا ان کا مسیح نازل ہو رہا ہے۔ایک طرف منظور چنیوٹی صاحب کے کندھے پر ہاتھ ہے اور ایک طرف ایک اور اسی قسم کے مولوی صاحب کے کندھے پر ان کا ہاتھ ہے۔بہر حال یہ تو ایک ضمنی بات ہے۔پہلے تو میں ان کا پس منظر آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور یہ پس منظران دعاوی کی روشنی میں سُننا چاہئے جو یہاں اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔یہاں یہ دعویٰ کیا گیا کہ حسن عودہ میرا دست راست تھا Right hand man اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ میرا پرائیویٹ سیکرٹری تھا۔کبھی بھی یہ صاحب میرے پرائیویٹ سیکرٹری نہیں رہے اور ساری جماعت جانتی ہے اس لئے اس قسم کے جھوٹ کے اعلان اور تشہیر سے جماعت احمدیہ کے ایمان کو مزید تقویت ملتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سب لغو اور جھوٹے پروپیگنڈے ہیں ان کی کوئی بھی حیثیت نہیں۔دست راست ہونے اور سب سے اہم معتمد ہونے کا جہاں تک تعلق ہے ان کا جو پس منظر میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں، اس پر آپ غور کریں تو اس سے آپ کو ان کی حیثیت کا اندازہ ہو جائے گا اور یہ جو باتیں میں آپ کے سامنے بیان کروں گا ان کا تحریری ریکار ڈ کمل، جس میں بہت سے ان کے ہاتھ کے لکھے ہوئے اعترافات شامل ہیں ، ہمارے ریکارڈ میں موجود ہیں۔کبابیر سے ۱۹۸۵ء میں اس وقت کے مبلغ شریف احمد صاحب امینی نے سب سے پہلے ان کا نام اس سفارش کے ساتھ بھجوایا کہ ان سے انگلستان بلوا کر سلسلے کا کوئی کام لیا جائے اور وجہ یہ بیان کی کہ یہاں یہ ہمارے قابو کے نہیں۔بداخلاقی کرتے ہیں اور اعتراض کی بہت عادت ہے لیکن چونکہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو مخلص ہے اور عربی دان بھی ہیں اور اُردو کا بھی کچھ ملکہ رکھتے ہیں اس لئے وہاں یہ سلسلے کے لٹریچر کی اشاعت میں اور عربی خط وکتابت میں کام آسکتے ہیں اور انہوں نے یہ حسن ظنی ظاہر کی کہ گویا یہاں آکر یہ سنبھل جائیں گے اور اپنی بد عادات سے باز آ جائیں گے۔جنوری ۱۹۸۶ء میں ان کو عربک ڈیسک کا انچارج مقرر کیا گیا جو با قاعدہ تبشیر کے تابع مختلف ڈیسکوں میں سے ایک ڈیسک ہے۔چند ماہ کے اندر ہی ان کے مزاج کی کبھی کئی رنگ میں ظاہر ہونا شروع ہوئی۔سب سے پہلے انہوں نے ایک شخص کے متعلق سفارش کی کہ یہ غزہ کے ایک مخلص احمدی ہیں اور