خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 74
خطبات طاہر جلد ۸ 74 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء سے بڑھ کر ان بدوں کے لئے کوئی دعا کرنے والا نہیں تھا اور ہم جانتے ہیں کہ اُن دعاؤں کے باوجود بہت سے بد تھے جو بد انجام کو پہنچے اس لئے وہ پہلو جو ہے اس کے پیش نظر اس دعا کو ساتھ شامل کرنا چاہئے کہ اے خدا اگر تیری تقدیر میں ان کی اصلاح نہیں لکھی تو ان کی موت خاموشی کی موت نہ ہو بلکہ ایسی کھلی ذلت اور ناکامی کی موت ہو کہ خدا کے وہ بندے جن کے اندر سعادت کی روح ہے وہ اس سے نصیحت پکڑیں اور عبرت حاصل کریں۔دعاؤں کے سلسلے میں بعض اُن علماء کے لئے بھی دعا کریں جو پاکستان اور ہندوستان میں پیدا ہونے والے عمومی طور پر جو علماء ہمیں دکھائی دیتے ہیں اُن سے مختلف ہیں۔میں نے جہاں تک عالم اسلام کا جائزہ لیا ہے سب سے بدقسم کا عالم ہندوستان اور ہندوستان کے ساتھ برصغیر کہنا چاہئے، ہندو پاکستان میں پیدا ہوا ہے اور یہ حکمت تو بالکل واضح ہے کہ جہاں اس قسم کے علماء ہوتے ہیں وہیں اللہ تعالیٰ اپنے نمائندہ کو بھیجا کرتا ہے مصلح کو بھیجا کرتا ہے۔یہ بات تو بالکل واضح اور سمجھ کے لائق ہے لیکن یہ خیال کر لینا کہ آج مسلمانوں کے نعوذ باللہ من ذالک سارے علماء ہی یہی رنگ رکھتے ہیں یا خود بر صغیر ہند و پاکستان میں بھی سارے علماء ایسے ہیں یہ درست نہیں ہے۔اس غلط نہی کے نتیجے میں ہم سے گزشتہ عرصوں میں ایک کو تاہی ہوئی ہے کہ ہم نے علماء کی طرف کم توجہ کی ہے۔جس شخص کو عالم سمجھایا عالم کے طور پر سُنا۔یہ سمجھا کہ ہمارے اور اُس کے درمیان ایک ایسی خلیج واقع ہے جو کبھی پاٹ نہیں سکتی، یہ درست نہیں ہے۔پاکستان میں ، ہندوستان میں باوجود اس کے کہ بعض علماء بہت شرارت میں آگے بڑھ گئے نہایت نیک دل اور پاکباز علماء بھی پیدا ہوئے اور آج بھی ہیں جو متقی ہیں۔ورنہ ہمارے معاملے میں ، جماعت احمدیہ کے معاملے میں جتنے علماء آپ کو شور ڈالتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اُس سے بیسیوں گنا زیادہ علماء آپ کو منظر عام پر دکھائی دیتے ہیں۔بہت سے ایسے علماء ہیں جو بول سکتے ہیں، اُن کی آواز میں طاقت بھی ہے لیکن جماعت کے معاملہ میں وہ خاموش ہیں۔کس حد تک یہ خاموشی نیکی ہے، کس حد تک یہ خاموشی جرم ہے یہ فیصلہ خدا نے کرنا ہے مگر اس خاموشی میں فی ذاتہ ایک امتیازی بات ضرور ہے۔جب کسی کمزور کو مارا جارہا ہو اُس کو تکلیف دی جارہی ہو اور اُس کے نتیجے میں ذلیل دنیا کی دولتیں کمائی جارہی ہوں اُس وقت ایسے علماء کا خاموش رہنا اور اُس بدی میں حصہ لے کر اُس دنیا کی دولت کی تمنا میں ہاتھ آگے نہ بڑھانا یہ بھی ایک نیکی ہے