خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 777
خطبات طاہر جلد ۸ 777 خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۸۹ء وہ سمجھتے ہیں کہ یہ خدا کی راہ میں قربانی کے لئے پیش کرنا ہے اور پھر اسے سجاتے ہیں اور اس پر کئی قسم کے زیور ڈالتے ہیں، پھول چڑھاتے ہیں، اس کو مختلف رنگ میں رنگ دیتے ہیں اور جب وہ قربانی کے لئے لے کر جاتے ہیں تو بہت ہی سجا سجا کر ، جس طرح دُلہن جارہی ہو اس طرح وہ سجا کر لے جاتے ہیں۔یہ بچے قربانی کے مینڈھے سے بہت زیادہ عظمت رکھتے ہیں اور ان کے ماں باپ کو اس سے بہت زیادہ محبت سے ان کو خدا کے حضور پیش کرنا چاہئے جتنی محبت سے خدا کی راہ میں بکرا ذبح کرنے والا اس کی تیاری کرتا ہے یا مینڈھے کی تیاری کرتا ہے ان کا زیور کیا ہے؟ وہ تقویٰ ہے۔تقویٰ ہی سے یہ سجائے جائیں گے۔اس لئے سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ ان واقفین نو کو بچپن ہی سے متقی بنائیں اور ان کے ماحول کو پاک اور صاف رکھیں۔ان کے سامنے ایسی حرکتیں نہ کریں جن کے نتیجے میں ان کے دل دین سے ہٹ کر دُنیا کی طرف مائل ہونے لگ جائیں۔ان پر اس طرح پوری توجہ دیں جس طرح ایک بہت ہی عزیز چیز کو ایک بہت ہی عظیم مقصد کے لئے تیار کیا جا رہا ہو اور اس طرح ان کے دل میں تقویٰ بھر دیں کہ پھر یہ آپ کے ہاتھ میں کھیلنے کے بجائے براہ راست خدا کے ہاتھ میں کھیلنے لگیں اور جس طرح ایک چیز دوسرے کے سپرد کر دی جاتی ہے تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آپ یہ بچے شروع ہی سے خدا کے سپرد کر سکتے ہیں اور درمیان کے سارے واسطے اور سارے مراحل ہٹ جائیں گے۔رسمی طور پر تحریک جدید سے بھی واسطہ رہے گا اور نظام جماعت سے بھی واسطہ رہے گا مگر فی الحقیقت بچپن ہی سے جو بچے آپ خدا کی گود میں لا ڈالیں خدا خودان کو سنبھالتا ہے اور خود ہی ان کا انتظام فرماتا ہے، خود ہی ان کی نگہداشت کرتا ہے۔جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدا نے نگہداشت فرمائی۔آپ لکھتے ہی ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار (درثمین صفحه: ۱۲۶) آپ نے یقیناً بڑی وسیع نظر سے اور گہری نظر سے اپنے ماضی کا مطالعہ کیا ہوگا تب جا کر اس شعر کا مضمون آپ کے دل سے ہویدا ہوا ہے، ظاہر ہوا ہے۔آپ نے غور کیا ہوگا بچپن میں دودھ پینے کے زمانے تک بھی جہاں تک یاد داشت جاتی ہو کہ ابتداء ہی سے خدا کا پیار دل میں تھا۔خدا کا تعلق دل میں تھا۔ہر بات میں خدا حفاظت فرما رہا تھا، ہر قدم پر اللہ تعالیٰ راہنمائی فرمارہا تھا اور جس طرح