خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 776 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 776

خطبات طاہر جلد ۸ 776 خطبه جمعه یکم دسمبر ۱۹۸۹ء اور حمد سے بھر جاتا ہے اور یقین ہو جاتا ہے کہ یہ کام خدا ہی کے ہیں خدا ہی نے کرنے ہیں۔وہاں ذمہ داریوں کا احساس بھی بڑھتا ہے اور انسان کی یہ تقدیر سامنے آ جاتی ہے کہ ایک بوجھ اُترتا ہے تو دوسرا سر پر آجاتا ہے، ایک مشکل آسان ہوتی ہے تو دوسری مشکل سر پر آن پڑتی ہے۔اب فکر اس بات کی ہے کہ ان نئے کھلتے ہوئے راستوں میں داخل کرنے کے لئے وہ کون سی فوج ہے ہمارے پاس جس سے ہم کام لیں گے؟ اور وہ کون سے ایسے واقفین ہیں جو ان نئی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ سر دست تو ہمارے پاس ان زبانوں کے ایسے ماہرین نہیں ہیں جو وہاں پہنچ کر خدمتیں سرانجام دے سکیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس پہلے دور میں تو ہمیں اشاعت لٹریچر کے ذریعے وہاں دلوں کو آمادہ کرنا ہوگا اور جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بار ہا توجہ دلائی ہے۔باہر کی دنیا کے وہ لوگ جن میں ان ملکوں کے باشندے نقل مکانی کر کے بس چکے ہیں ان کا بہت بڑا کام ہے کہ ان سے روابطہ پیدا کریں۔ان سے تعلقات بڑھائیں اور انہیں میں سے وہ مجاہدین تلاش کریں جو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ اپنے اپنے ممالک میں خدمت دین کے جذبے سے بھر جائیں اور اپنی زندگیاں پیش کریں۔پھر ان کو تھوڑی بہت تعلیم دے کر جس حد تک بھی ان کی ابتدائی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لئے ضروری ہے ہم ان کو اپنے اپنے وطنوں میں واپس بھجوا سکتے ہیں لیکن اس کے علاوہ جو واقفین نو کی جو فوج ہے اس پر آئندہ میں سال تک بہت بڑی بڑی ذمہ داریاں پڑنے والی ہیں۔اور اس پہلو سے میں جماعت کے اس حصے کو نصیحت کرتا ہوں جس کو خدا تعالیٰ نے وقف نو میں شمولیت کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ تحریک جدید کی ہدایات کے مطابق اپنے بچوں کی تیاری میں پہلے سے زیادہ بڑھ کرسنجیدہ ہو جائیں اور بہت کوشش کر کے ان واقفین کو خدا تعالیٰ کی راہ میں عظیم الشان کام کرنے کے لئے تیار کرنا شروع کریں۔خدا کی خاطر بچے تیار کرنا اس سے بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے جتنا عید پر قربانی کے لئے لوگ جانور تیار کرتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ بعض لوگ دوسری نیکیاں کچھ کریں یا نہ کریں نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن عید کی قربانی کے لئے مینڈھا بڑے پیار سے پالتے ہیں اور بعض دفعہ اس پر بہت بہت خرچ کرتے ہیں۔ایسے مزدور بھی ہیں جو اپنے بچوں کا پیٹ پوری طرح پال نہیں سکتے لیکن اپنے مینڈھے کو چنے ضرور کھلائیں گے کیونکہ