خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 775
خطبات طاہر جلد ۸ 775 خطبه جمعه یکم دسمبر ۱۹۸۹ء میں مکمل فرمایا جب کہ دوسری طرف سے روکیں توڑنے کے سامان بھی تیار تھے اور جونہی ہم یہاں خدمت کے لئے تیار ہوئے خدا تعالیٰ نے وہ حائل روکیں ساری دور کرنی شروع کر دیں۔یہ وہ زندہ خدا ہے جو احمدیت کا خدا ہے جس نے ہمیشہ احمدیت کی پشت پناہی فرمائی ہے اور ہر قدم پر ہماری مدد فرمائی ہے۔کون دُنیا کی طاقت ہے جو اس خدا کی محبت ہمارے دل سے نوچ کر پھینک سکتی ہے۔کون ہے جو ہمارے دل میں شکوک پیدا کر سکتا ہے۔ہم خدا کی اس تقدیر کو روزمرہ ہمیشہ ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں۔مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں۔کبھی کبھی بکھری ہوئی مختلف صورتوں میں ظاہر دیکھتے ہیں اور کبھی کبھی ان صورتوں کا اجتماع ہوتا دیکھتے ہیں اور ایک نہایت ہی خوبصورت منظم شکل ان تدبیروں کی نظر آتی ہے اور اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ ہم جب سوئے ہوئے ہوتے ہیں، جب ہم بعض باتوں سے غافل ہوتے ہیں تو ہمارا خدا واقعی جاگتا ہے اور واقعی ان کاموں کو ہمارے لئے کرتا ہے جن کاموں سے ہم غافل ہوتے ہیں جن کاموں کو کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ہوتی۔پس خدا کی تقدیر نے ایک طرف وہ کام ہمارے لئے آسان کر دیے جو کام بہت مشکل تھے اور اب بھی جب ماہرین ان باتوں کو دیکھتے ہیں تو یقین نہیں کرتے کہ اتنے تھوڑے عرصے میں اتنے حیرت انگیز کام کیسے انجام دینے کی توفیق ملی لیکن ان کو نہیں پتا کہ دراصل یہ اللہ کی قدرت کا ہاتھ ہے، اس کی محبت اور رافت اور شفقت کا ہاتھ ہے جو ہر مشکل کو آسان کرتا چلا جاتا ہے اور اب جو نئے سامان پیدا ہوئے ہیں ان کے نتیجے میں میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کے غلبے کا یہ دوسرا دور بڑی تیزی کے ساتھ اثر پذیر ہو جائے گا۔دوسرے دور سے مراد آخرین“ کا دور ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دور ہے اور تیزی کے ساتھ اثر پذیر ہونے سے مراد میری یہ ہے کہ اب اس رفتار میں مزید تیزی پیدا ہوگی اور وہ علاقے جواب تک خالی تھے اور وہ دنیا کی ایک بہت بڑی تعداد ہے ان علاقوں کی تعداد باقی دنیا کے علاقوں سے اگر زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں ہوسکتی۔کیونکہ انہیں علاقوں میں سارے چین کی آبادی شامل ہے۔سارے روس کی آبادی شامل ہے، سارا مشرقی یورپ ہے۔پھر اور ایسی مشرقی طاقتیں ہیں یا مشرقی ممالک ہیں جو اشتراکیت کے دام میں آئے ہوئے ہیں۔تو بہت بڑی وسیع آبادی ہے۔نصف دنیا کے قریب انسانوں کی ایسی آبادیاں ہیں جن تک پہلے اسلام کا پیغام پہنچنے کے کوئی سامان نہیں تھے تو اس لئے جہاں ان باتوں کو دیکھ کے دل شکر