خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 73
خطبات طاہر جلد ۸ 73 چاہئے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء اس تفریق کو ، اس فرق کو نمایاں طور پر اپنے پیش نظر رکھا کریں کہ بدوں سے نفرت نہیں بلکہ بدی سے نفرت کرنی ہے اور بدی کا جو شخص مظہر بن چکا ہو تبھی بات ہے کہ وہ بدی کی نفرت اُس کی نفرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو جایا کرتی ہے اور وہ نفرت سے جن میں دعاؤں کا میلان پیدا کرتی ہے یعنی اُن شخصوں کے ، اُن لوگوں کے مٹ جانے اور برباد ہو جانے کا۔چونکہ میں نے شروع میں آپ کو ایک بات سمجھائی کہ یہ دعا کریں کہ ان کی عمریں لمبی ہوں اور یہ نا کامی دیکھیں تو اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ اس فرق کو آپ کے سامنے واضح کر دوں۔بد جب تک بد ہے اُس کی بدی کی وجہ سے اُس کے متعلق ایسے خیالات دل میں اُٹھتے ہیں جو منفی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن اُس کے ساتھ ایک دعا ضرور شامل کرنی چاہئے کہ اے خدا اگر ان بدوں کی تقدیر میں بدی کی حالت میں مرنا ہے تو پھر ہماری دعا یہ ہے کہ ان کو نامرادی کی ایسی موت دے جو دنیا کے لئے عبرت بنے لیکن اول دعا یہی ہے کہ اللہ ان کو ہدایت عطا فرمائے۔اس لئے اس پہلو سے بھی غور کیا کریں کہ یہ جو اپنی بدیوں کی وجہ سے قابل نفرت دکھائی دینے والے لوگ ہیں ان کا حال اس دنیا میں بھی بد ہے اور قابل رشک نہیں اور اُس دنیا میں اس سے بڑے عذاب کے منتظر ہیں اس لئے اس پہلو پر نظر ڈال کر اُن پر رحم بھی کرنا چاہئے اور رحم کے ساتھ ان کے لئے دعا کرنی چاہئے۔یہ مضمون اُس قوم کے لئے سمجھنا بہت ہی ضروری ہے جو رحمۃ للعالمین کی طرف منسوب ہوتی ہے اور سچے دل سے منسوب ہوتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی مے کو جو رحمتہ للعالمین فرمایا گیا اس مضمون کو ہمیں کبھی بھی نہیں بھلانا چاہئے۔اس لئے اگر بدوں سے نفرت اس رنگ کی ہو جائے کہ ہم اُن کے بد انجام کے سوا کوئی اور تمنا دل میں نہ رکھتے ہوں تو یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہمیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی رحمت سے دور ہٹا دے گی۔اس لئے جو دعائیں میں نے آپ کو شروع میں کہی تھیں وہ اس شرط کے ساتھ کریں اور اس معاملے میں دل کو ٹول لیا کریں۔نفرت کو مٹاتے ہوئے پہلے رحمت کو جگہ دیں اور خدا سے پہلے سے یہ دعا مانگیں کہ اے خدا تو جہاں تک ان لوگوں کے اندر پاک تبدیلی کی گنجائش موجود ہے اور تیری آنکھ دیکھ سکتی ہے ہم نہیں دیکھ سکتے۔ان کے اندر پاک تبدیلی پیدا فرما دے اور ان کو اس بد انجام سے بچالے لیکن ہم جانتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ