خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 751
خطبات طاہر جلد ۸ 751 خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۸۹ء فرماتا ہے یہ کیسے بے وقوف ہیں کہ رحمت میں جلدی کرنے کی بجائے عذاب میں جلدی کر رہے ہیں اور کہتے ہیں خدا جلدی سے کیوں عذاب ظاہر نہیں کرتا۔ پس جہاں تک خدا کے عذاب کا تعلق ہے وہ ہوا کرتے ہیں نازل مختلف رنگ میں نازل ہوتے ہیں کئی قسم کے گند ہیں جو قوم کے ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں کئی قسم کی اخلاقی موتیں ہیں جو واقعہ ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔ بحیثیت مجموعی مکذب قو میں انحطاط کا شکار ہو جایا کرتی ہیں۔ طرح طرح کی دنیاوی آفات میں مبتلا ہونے لگ جاتی ہیں۔ ایک پورا وسیع مضمون ہے جو ایک یا دو افراد کی موت سے نہیں بلکہ ایک سیلاب کی طرح ساری قوم پر چڑھ دوڑتا ہے اور قو میں خدا کے غضب کا نشان بن جایا کرتی ہیں اس غضب کی علامتیں بن کے ظاہر ہوا کرتی ہیں۔ یہ نشان پاکستان میں بھی کثرت سے ظاہر ہو رہا ہے اور ہندوستان میں بھی کثرت سے ظاہر ہو رہا ہے۔ جب تک قوم ان علماء کا دامن نہیں چھوڑتی، جب تک ان مکذبین کا دامن نہیں چھوڑتی مسلمان قوم کے لئے جہاں جہاں اس قسم کے علماء کے ساتھ وہ چمٹے ہوئے ہیں کوئی امن اور سکون نہیں ہے۔ جو چاہیں وہ کر لیں جب تک ان کی نحوست کے سائے سے چل کر باہر نہیں نکلتے اس وقت تک وہ کبھی چین نہیں پائیں گے کبھی ان کا کچھ نہیں بن سکے گا۔ ان کی تقدیر بننے کی بجائے بگڑتی چلی جائے گی۔ یہ ہے وہ سلوک جو ہمیں پتا چلتا ہے کہ قرآن کریم کے مطابق خدا کے بچوں کے منکرین سے ہوا کرتا ہے اور ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ورنہ اگر آسمان سے پتھر گرنے ہوتے اور کسی شخص نے اپنی گندگی کے نتیجے میں معا ہلاک ہونا ہوتا تو کیوں آنحضرت ﷺ کے مکذبین کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوا۔ مغربی دنیا کی صدیاں اس بات پر گواہ کھڑی ہیں۔ ایسے ایسے بد بخت پیدا ہوئے ہیں انہوں نے آنحضرت کو ایسی ایسی غلیظ گالیاں دی ہیں کہ چند سطریں پڑھ کر انسان سے بردان ن سے برداشت نہیں ہو سکتا کہ مزید اس بات کو آگے پڑھ سکے ۔ بعض دفعہ جواب لکھنے کے لئے یا اطلاع پانے کی خاطر کہ ان بدبختوں نے حضرت ال رت محمد مصطفی ا سے کیا کیا سلوک کیا ہے مجبوراً پڑھنا پڑھتا ہے لیکن انتہائی تکلیف دہ اور صلى علیہ دردناک حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے ان کے اوپر تو کہیں خدا کی طرف سے کوئی پتھر نہیں گرے ، کئی ایسے ہیں جو لمبی عمریں پا کر اور طبعی عمر وفات پا گئے ۔ تو جماعت احمد یہ نے تو وہ سلوک مانگا تھا جو خدا کے انبیاء