خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 735
خطبات طاہر جلد ۸ 735 خطبه جمعه ۰ ارنومبر ۱۹۸۹ء فضل انسانوں سے بنایا نہیں جایا کرتا۔اب مقابلہ کر کے دیکھ لو کتناعظیم الشان چیلنج ہے۔اللہ کا فضل ہے جسے چاہے گا وہ دے گا اور زبردستی تم اس فضل کو تبدیل نہیں کر سکتے۔خدا کی تقدیر میں تمہیں کوئی دخل دینے کی جانہیں ہے۔پس اگر یہ معلوم کرنا ہے کہ مومن کون ہے اور مرتد کون ہے تو دیکھو فضل کس پر نازل ہوتے ہیں اور کون اس پہلو سے فضلوں سے محروم ہے۔میں نے گن گن کر ان مرتدوں کا جائزہ لیا جو اس نہایت شدید مخالفت کے دور میں اس اہم سال میں ارتداد اختیار کر گئے ہیں اور ان کے مقابل پر فی مرتد ایک ایک ہزار بیعتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں ہمیں۔یہ سال پورا ہو جائے میں آپ کے سامنے اعداد و شمار رکھوں گا آپ حیران ہو جائیں گے۔اب تک تو ایک ہزار سے کم نہیں ہیں۔جتنے بدنصیب پاکستان میں مرتد ہوئے ہیں ان دباؤں کے نتیجے میں، لالچوں کے نتیجے میں، عزتوں کی حفاظت کے نتیجے میں جو جو بھی ان کے منشایا مقاصد تھے ان کے نتیجے میں وہ مرتد ہوئے ان میں سے ہر ایک کے بدلے میں خدا نے دنیا میں ایک ایک ہزار احمدی عطا کیا ہے اور یہ پہلو میرے سامنے اب آیا ہے یعنی اس آیت کے مطالعہ کے بعد کہ وہ جو آنے والے لوگ ہیں وہ انشاء اللہ بہت اچھے ثابت ہوں گے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے کہ میں صرف تعداد پوری نہیں کروں گا۔اصل جھگڑا تعداد کا نہیں تھا بلکہ Quality کا اس کی حیثیت کیا تھی جانے والے کی؟ اور قرآن کریم کے نزدیک اصل نقصان حیثیت کا ہوا کرتا ہے نہ کے تعداد کا۔تو یہ قرآن کریم کی عظمت کا ایک نشان ہے اس آیت میں کس فصاحت و بلاغت کے ساتھ اصل مضمون کو ابھار کر ہمارے سامنے رکھ دیا۔یہ نہیں فرمایا کہ ایک ایک کے بدلے تمہیں قو میں عطا کروں گا۔فرمایا ایک ایک گندے کے بدلے اچھے، صالح لوگ پاکیزہ لوگ عطا کروں گا کیونکہ اگر صرف تعداد کا مقابلہ ہو تو پھر تو مومن ہارے ہی ہوئے ہیں کیونکہ دنیا کی بھاری اکثریت ان کو جھوٹا سمجھتی ہے ان سے روگردانی کرتی ہے ان میں سے ایک حصہ ان پر ظلم کرتا ہے تو تعداد کا اگر خالی مقابلہ ہو تو پھر تو ایمان اور ارتداد میں فرق کرنا مشکل ہو گا۔تو خدا تعالیٰ نے اس ایک آیت میں ایمان اور ارتداد کا کیسا نمایاں فرق کر دیا ہے۔فرمایا دیکھو جتنے جانے والے لوگ تھے وہ بزدل کمینے آپس میں دشمنیاں کرنے والے اور غیروں سے ڈرنے اور ان کے سامنے جھکنے والے اور پھر اس کے علاوہ لَوْمَةَ لابِپھر سے ڈرنے والے لوگ تھے۔اب