خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 733
خطبات طاہر جلد ۸ 733 خطبه جمعه ۱۰ار نومبر ۱۹۸۹ء کی بدکرداری کی وجہ سے جماعت نے خفگی کا اظہار کیا اور بعض دفعہ انتظامی کارروائیاں کیں۔ایسے لوگ ان کی طرف گئے اور جن کو خالصہ پیسے کی لالچ دی گئی اور پیسے کی لالچ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے تکذیب کو پیشہ بنالیا اور دل ان کے ایمان سے خالی تھے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہاں جا کر جس کو ایمان کے طور پر قبول کیا اس کی خاطر کبھی کوئی مالی قربانی نہیں کی بلکہ لینے والے مومن ہیں یہ دینے والے اور خرچ کرنے والے مومن نہیں ہیں۔غرضیکہ اس پہلو سے آپ تفصیلی جائزہ لیتے چلے جائیں تو آپ کو خود پاکستان ہی میں اس ارتداد کی مہم کے سال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے حیرت انگیز نشان ابھرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ہر ارتداد کے واقعہ میں قرآن کریم کی صداقت کا اعلان بھی ہے اور جماعت احمدیہ کی صداقت کا اعلان بھی ہے کیونکہ بلا استثناء ان ارتداد کے واقعات پر قرآن کریم کی کوئی نہ کوئی آیت گواہ کھڑی ہے کہ تم مرتد ہو مومن نہیں ہو اور ہر وہ شخص جو ان سے روگردانی کر کے احمدیت میں داخل ہوتا ہے اس کے اوپر بھی قرآن کریم کی ایک نہیں کئی آیات گواہ کھڑی ہو جاتی ہیں کہ تمہیں مرتد کہنا جھوٹ اور ظلم ہے تم مومن ہو کیونکہ تم میں قرآن کریم کی بیان کردہ مومنانہ صفات پائی جاتی ہیں۔اور ان سب کے علاوہ اس وہم کو دور کرنے کے لئے کہ شاید ابھی کوئی شبہ باقی ہو ایمان اور ارتداد میں قرآن کریم نے ایک عظیم الشان مضمون بیان فرمایا ہے جو روز روشن کی طرح سورج جس طرح چڑھ جاتا ہے کھلے دن میں یا کھلا دن جس طرح سورج کی روشنی میں پیدا ہوتا ہے اس طرح ایمان اور ارتداد کے فرق کو نمایاں کر دینے والی ایک میزان ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے: يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَا بِمِ ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاءُ وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (المائده: ۵۵)