خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 721
خطبات طاہر جلد ۸ 721 خطبه جمعه ۳ نومبر ۱۹۸۹ء طلباء جو مولوی فاضل کے تھے وہ اکثر صرف و نحو میں فیل ہوا کرتے تھے اور قریب آنے کی وجہ سے امتحان بہت رٹے لگاتے تھے اور مجھے پڑھنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آئی اس حصے کو کیونکہ وہ ملک صاحب سے پڑھا ہوا تھا۔ پھر ملک صاحب نے جس حد تک فقہ کی تعلیم دی یا دوسری بعض علوم کی شاخوں میں ہمارے استاد بنے ان حصوں میں مجھے خوب یاد ہے کہ کبھی محنت کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ ملک صاحب صاحب ۔ سے پڑھا ہوا تھا۔ یا د رکھیں جہاں استاد محنت کرنے والا ہو، جہاں استاد کا شعور روشن ہو اور وہ اپنے مضمون کے نظام کو سمجھتا ہو اس کی روح سے واقف ہو اس کے طلباء کو بہت کم محنت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ہے۔ جتنا زیادہ محنت کرنے والا طالب علم ہے وہ ضروری نہیں کہ استاد استاد کے اوپر حرف آئے لیکن اکثر صورتوں میں معلوم ہوتا ہے کہ استاد کا کوئی قصور رہ گیا ہے۔ بہر حال ملک صاحب کے متعلق تو میں ذاتی گواہ ہوں کہ یہ نہیں کہ ہر لیکچر لیکچر پہ محنت کرتے تھے جب پڑھا تھا انہوں نے تو اس توجہ کے ساتھ پڑھا تھا اور اس محنت کے ساتھ پڑھا تھا کہ ان کے دماغ میں اس مضمون کا جہان روشن ہو چکا تھا۔ پھر اسی روشنی سے انہوں نے باقیوں کو حصہ دیا اپنے طلباء کو اور وہ مضمون آسان ہوتے چلے گئے۔ جامعہ احمدیہ کو بھی ملک صاحب کی ان نیک صفات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے علوم کی تعلیم میں اس نقطہ کو سمجھنا نا چاہئے اور ملک صاحب کا یہ فی صاحب کا یہ فیض ان کے بعد بھی ہمیشہ جامعہ میں جاری رہنا چاہئے ۔ تمام اساتذہ کوشش یہ کریں کہ اس طرح اپنے طلباء کو پڑھائیں کہ طلباء اس مضمون کو عقلاً ذہناً خود بخود جذب کرتے چلے جائیں اور ان کے شعور کا ایک ایسا حصہ بن جائے کہ پھر اس کے بعد ان کو خاص غیر معمولی محنت کی ضرورت نہ پڑے۔ بعض نئے لفظوں کو یاد کرنے میں ضرور محنت کرنی پڑتی ہے مگر یہ ضمنی باتیں ہیں ۔ بعض تاریخیں یاد کرنی پڑتی ہیں ۔ بعض Sequence بعض دفعہ یاد کرنے پڑتے ہیں یعنی آگے پیچھے کون سی چیز پہلی تھی کون سی بعد میں ۔ معمولی توجہ سے یہ چیزیں یاد ہو جاتی ہیں لیکن اگر اچھا پڑھانے والا ہو تو جلدی یاد ہو جاتی ہیں۔ اور تدریس میں دوسری بات ان کے متعلق قابل ذکر یہ ہے کہ یہ مجلس احرار سے تعلق رکھنے والے ایک جوان تھے۔ جب یہ قادیان آئے ہیں اور اور غالباً یہ ۳۳ ۱۹۳۴ء کا واقعہ ہے مجلس احرار جب زوروں پر تھی اور ان جلوسوں میں سے بعض کی راہنمائی کرنے والے تھے جو نہایت ظالمانہ گند بکتے ہوئے قادیان پر حملہ آور تھے اور یہ دعویٰ لے کر قادیان پر یلغار کی تھی کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا