خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 720
خطبات طاہر جلد ۸ 720 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء نظام کے ہر حصے کو غیر شعوری دماغ کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے اور نظام جماعت کا عرش بلندتر ہوتا چلا جائے گا۔یہی وہ نظام ہے جس کے ذریعے ہم مزید رفعتیں حاصل کر سکتے ہیں۔اس کے بعد میں ذکر کرنا چاہتا ہوں ایک غم کی خبر بھی ہے مگر رضائے باری تعالیٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔غم جدائی کا تو ہے لیکن اپنی ذات میں جن کی وفات کا میں ذکر کرنے لگا ہوں وہ ایک نہایت ہی نیک انجام کو پہنچے اور کسی پہلو سے بھی ان کی اس وفات کے اوپر کسی کے لئے شکوہ کی کوئی جانہیں۔حضرت ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ عالیہ احمد یہ جو ۱/۲۵ اکتوبر کو۲ بجے کینیڈا میں وفات پاگئے ہیں ان کی وفات کا اعلان کرتے ہوئے ان کا مختصر ذکر خیر کرنا چاہتا ہوں۔ملک صاحب مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی علم عطا فرمایا، غیر معمولی فراست عطا فرمائی، غیر معمولی اطاعت کی روح عطا کی اور ایسا حسین ذہن اور قلب کے درمیان توازن عطا کیا کہ جو شاذ شاذ بندوں میں پایا جاتا ہے۔ایک بہت ہی ایک دلر با وجود تھے۔میں ان کے ساتھ مختلف تعلق رکھتا رہا ہوں خصوصیت کے ساتھ جامعہ کے زمانے میں شاگرد کی حیثیت سے جب میں نے ان کو دیکھا تو ان کے وجود کی عظمت مجھ پر ظاہر ہونی شروع ہوئی۔نہایت منکسر المزاج لیکن بہت گہرا علم رکھنے والے اور بہت ہی اپنے طلباء سے شفقت کا سلوک کرنے والے اور اتنے ذہین کہ مشکل سے مشکل مسائل کو اس طرح سمجھاتے تھے کہ کم سے کم مجھے تو پھر کبھی دوبارہ کتاب اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔جو کچھ ان سے میں نے پڑھا وہ آسانی سے یاد ہوتا چلا گیا۔مثلاً صرف اور نحو شروع میں انہوں نے مجھے پڑھائی اور باوجود اس کے صرف و نحو کو عربی جامعات میں بہت ہی مشکل مضمون سمجھا جاتا ہے اور لوگ رٹے لگاتے ہیں اور صرف کے متعلق تو کہتے ہیں کہ اس کے لئے کتے کا دماغ چاہئے۔یعنی مولویوں نے محاورہ بنایا ہوا ہے۔جس طرح کتا بھونکتا رہتا ہے اس طرح ایک لفظ بار بار بھونکنا شروع کر دو تو پھر صرف یاد آتی ہے لیکن ملک صاحب کو چونکہ خدا نے دماغ کا سلیقہ عطا کیا تھا اس لئے آپ اس طرح اس کو نظام کے طور پر سمجھتے تھے اور اس طرح سمجھانے کی اہلیت رکھتے تھے کہ از خود وہ چیز یا د ہونی شروع ہو جاتی تھی کبھی کسی رٹا لگانے کی ضرورت نہیں پیش آتی تھی۔چنانچہ جب میں نے حضرت خلیفہ مسیح الثانی کے حکم پر جامعہ سے فارغ ہو کر تھوڑی دیر کے اندر ہی مولوی فاضل کا امتحان دیا تو باقی