خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 683 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 683

خطبات طاہر جلد ۸ 683 خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۸۹ء ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے ، ادنی سے ادنی احسان کو بھی جذ بہ شکر کے ساتھ قبول کرنا چاہئے۔اگر چہ یہ احسان ابھی اتنا معمولی ہے کہ عدل کی حدود بھی پوری نہیں کرتا ہے اس لئے صحیح معنوں میں لغوی اعتبار سے اس کو احسان کہنا درست نہیں ہے لیکن وہ جگہیں یا وہ ممالک جہاں سے عدل اٹھ چکا ہو وہاں عدل کا آغاز بھی ایک رنگ میں احسان کا آغاز ہوا کرتا ہے۔پس اگر چہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ حکومت پنجاب کا یہ فعل ابھی عدل کے تقاضے پورے کرنے سے بھی بہت پیچھے ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں جوحسن و احسان کی تعلیم دی گئی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جس طرح اپنے غلاموں کی تربیت فرمائی ہے ہمیں اس چھوٹے سے احسان کو بھی نظر تشکر سے دیکھنا چاہئے۔اگر چہ یہ ممکن ہی نہیں بلکہ غالب گمان ہے اس جذ بہ تشکر کی کوئی قدر نہیں کی جائے گی۔اگر چہ حالات یہی بتاتے ہیں کہ اس چھوٹے سے نیک قدم کے بعد یہ خطرہ ہے کہ پھر اس قدم کو واپس کھینچنے کے لئے ایک مہم شروع کی جائے گی اور وہ جماعت احمدیہ کے دشمن جو حکومت کو ڈرا دھمکا کر اپنے خاص ہتھکنڈوں کے ذریعے جماعت احمدیہ سے عدل کا سلوک کرنے سے باز رکھتے ہیں وہ اس معمولی سے اظہار عدل کے بعد ایسی مہم شروع کریں گے جس کے نتیجے میں یہ خطرہ موجود ہے کہ حکومت ان سے مرعوب ہو جائے۔لیکن امتثال امر میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع کہ جو شخص بندوں کا ممنون نہیں ہوتا وہ میرا بھی ممنون نہیں ہوتا اس لئے جماعت احمدیہ کو اس پر بھی خدا کے شکر کے علاوہ اس حکومت کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے عدل کی طرف کچھ معمولی سی حرکت کی ہے۔اس شکر کے نتیجے میں ان سے تو ہمیں کسی خیر کی توقع نہیں ، کسی احسان کی توقع نہیں لیکن چونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اگر میرے شکر گزار بندے بنو گے تو میں تمہیں اسکے نتیجے میں بہت دوں گا۔لَا زِيدَنَّكُمْ (ابراهیم:۸) کا وعدہ اور لَأَزِيدَنَّكُمْ میں بڑی شدت کے ساتھ ایک قوت کا اظہار پایا جاتا ہے۔لَا زِيدَنَّكُمْ میں ہوں جو بڑھانے والا ہوں اور میں یقین لا ز ما تمہیں بہت بڑھ چڑھ کر دوں گا اگر تم میرے شکر گزار بندے بنو گے۔پس چونکہ ہمارے اس جذبہ تشکر میں دراصل خدا کی شکر گزاری کا جذ بہ کارفرما ہے اور وہی محرک ہے اسی لئے اس جذ بہ تشکر کے ساتھ جب ہم خدا تعالیٰ کی حمد کے گیت گائیں گے اور اس پر