خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 682

خطبات طاہر جلد ۸ 682 خطبه جمعه ۲۰/اکتوبر ۱۹۸۹ء کروانی چاہے وہاں انتظامیہ میں کوئی نہ کوئی ان کا ایسا نمائندہ موجود ہے جو اس شرارت پر عمل درآمد کروانے میں ان کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کرے۔ایسے لوگوں کی فہرستیں بھی اکٹھی کی جارہی ہیں تا کہ ان لوگوں کی شرارت پر نظر رہے۔جہاں تک جماعت احمد یہ عالمگیر کا تعلق ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جہاں دعاؤں کے ذریعے اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کر رہی ہے وہاں کوششوں میں بھی کسی طرح بھی غافل نہیں رہی اور خصوصیت کے ساتھ انگلستان کی جماعت اور امریکہ کی جماعت اور کینڈا کی جماعت ان امور میں پیش پیش ہے اور دنیا کی رائے عامہ کو ان حالات سے پوری طرح باخبر رکھنے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی مستعدی سے یہ جماعتیں کام کر رہی ہیں۔اب کچھ دنوں سے کچھ ایسے آثار ظاہر ہونے شروع ہوئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب جماعت اسلامی کے اس حد تک زیر اثر نہیں رہی اور کچھ جماعت اسلامی کے پنجہ سے نکلنے کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔چنانچہ حال ہی میں ربوہ میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کو اور مجلس انصار اللہ مرکزیہ کو جو مرکزی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت دی گئی ہے یہ بھی اسی رجحان کی نشاندہی کرنے والی باتیں ہیں۔اس سے پہلے ایک لمبے عرصے تک اجتماعات کا انقطاع رہا۔اب بھی جو اجازت دی گئی ہے وہ بہت ہی بوجھل دل کے ساتھ اور بے دلی کے ساتھ دی گئی ہے۔چنانچہ خدام الاحمدیہ کو یہ تاکید ہے کہ آپ کا اجتماع بیت الاقصیٰ میں ہو اور اس سے باہر کوئی اجتماع نہ ہو اور اس پر بھی پابندی یہ ہے کہ کسی قسم کا لاؤڈ سپیکر استعمال نہ ہو۔اب یہ عقل کے خلاف بات ہے کہ پاکستان بھر کے نو جوانوں کا اجتماع ہو اور وہ ایک مسجد کے اندر سما جائے۔بیت الاقصیٰ خصوصیت کے ساتھ اتنی چھوٹی ہو چکی ہے کے ربوہ کے باشندوں کے لئے بھی پوری نہیں ہوتی اور وہاں اس اجتماع کا سما جانا یہ عقل کے خلاف بات ہے۔لیکن بہر حال جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہتری کی طرف چھوٹا ہی سہی کچھ قدم ضرور ہے۔اسی طرح انصار اللہ کے اجتماع کو بھی بڑے لمبے عرصے کے بعد اجازت دی گئی ہے۔جہاں تک ہمارا تو کل ہے وہ تو خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے اور جہاں تک ان مظالم کے خلاف فریاد ہے وہ بھی خدا تعالیٰ ہی کے حضور میں ہے اور اگر چہ یہ ایک بہت معمولی سا فرق ہے ایسا فرق نہیں جس کے نتیجے میں دل بے ساختہ ممنون احسان ہونے لگیں۔مگر ہمیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جو تعلیم دی ہے وہ یہ