خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 659 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 659

خطبات طاہر جلد ۸ 659 خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء بعض دفعہ بعض احمدی بھی ان تحریروں کو پڑھتے ہیں اور پھر بعد میں پوچھتے ہیں کہ اچھا یہ کیا ہوا، یہ کیا ہوا ؟ دشمن نے جو چالیں چلیں ان چالوں کو بغیر قریب کے، بغیر دھوکے کے دشمن پر الٹادینا یہی وہ اسلامی خدعہ ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے۔اور آج کل اس کی ایک نئی شکل عام جسمانی جدوجہد میں بھی ہمیں نظر آنی شروع ہوئی ہے۔وہ غالبا ہے تو پرانی لیکن آجکل دنیا میں بہت زیادہ معروف ہو رہی ہے وہ مارشل آرٹس کہلاتی ہے۔چین اور جاپان وغیرہ میں، کوریا اور جاپان وغیرہ میں خصوصیت سے مارشل آرٹس پر بڑا زوردیا جارہا ہے اور مارشل آرٹس اسلامی اصطلاح میں اس خدعہ کو کہ سکتے ہیں جس کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے۔یعنی دشمن کے فریب ، دشمن کے حملے، دشمن کی طاقت کو اس کے اوپر الٹا دو۔خواہ تم کمزور بھی ہو اس صورت میں تم دشمن پر غالب آ سکتے ہو۔چنانچہ جتنا فن آپ کرائے وغیرہ میں مشاہدہ کرتے ہیں اس کی بنیاد اسی بات پر ہے کہ دشمن کی طاقت کو اس طرح اس پر الٹاؤ کہ جس طرح آواز کی بازگشت آتی ہے اور باہر سے آتی ہوئی اپنے کانوں کو سنائی دیتی ہے حالانکہ وہ اپنے گلے سے نکلی ہوئی آواز ہوتی ہے اسی طرح دشمن کی طاقت کی بازگشت دشمن کو مغلوب کر دے۔یہ وہ فن ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے وقت میں ایک نہ صرف کمال دکھایا بلکہ حیرت انگیز معجزے دکھائے۔اس طرح دشمن کو اس کے اپنے مکر وفریب کے ذریعے مغلوب کیا ہے کہ فَبُهِتَ الَّذِى كَفَرَ (البقرہ:۲۵۹) کے نظارے سامنے آتے ہیں۔یہ ایک پہلو ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو پوری طرح ہماری جماعت کے پیش نظر رہنا چاہئے ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کے مطالعہ کے وقت آپ کی ذات سے پوری طرح سے واقف نہیں ہو سکتے۔دوسرا پہلو ہے بغیر اس مقابلے کے آپ کی اپنی اندرونی شخصیت کو سمجھنا۔یہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔یہ جو دوسرا پہلو ہے یہ پاک نصیحت والے مجادلے کے ذریعے دکھائی دیتا ہے۔میں نے جیسا کہ بیان کیا تھا انبیاء دوطرح سے اپنے مقاصد کو ادا کرتے ہیں۔ایک غیروں سے مقابلے کی شکل میں اور اس مقابلے کے وقت غیروں کو پھر کئی قسم کے حملوں کا موقع مل جاتا ہے۔کیونکہ لڑائی لڑائی ہے اس میں مقابلے بھی ہوتے ہیں ، اس میں سختیاں بھی ہوتی ہیں ، اس میں خــدعــہ سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔جس قسم کی میں نے تعریف کی ہے اس کی روشنی میں۔اس طرح پھر غیر دوبارہ حملے کرتے ہیں۔