خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 658
خطبات طاہر جلد ۸ 658 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء مرض تھا وہ سمجھ نہیں رہے تھے اس مرض کو اور خدا نے ان کو اپنے دھو کے میں اس طرح مبتلا کر دیا کہ ان کی لاعلمی میں وہ مرض بڑھتا چلا گیا اور جب وہ بڑھ کر غالب آ گیا ان کی ذات پر تب ان کو پتہ لگا کہ وہ تو بالکل مجبور ہو چکے ہیں ۔ یہ خدا کا خدعہ ہے جس میں دشمن کی طاقت کو دشمن کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ باہر سے فریب کاری نہیں کی جاتی دشمن کو اپنی ہی ہی حالت میں ، اپنی غفلت میں مبتلا رہنے دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی بیماری خود اس پر غالب آجائے ۔ اسی قسم کے خدعہ کی مثال حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ایک روایت سے ملتی ہے۔ ایک شخص نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مصافحہ کیا دو ہاتھ سے جس طرح ہمارے ہاں ابھی بھی رواج ہے دو ہاتھ سے اور ادب کے اور احترام کے اظہار کے طور پر مصافحہ کیا جاتا ہے اور سر بھی جھکایا۔ اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے دو ہاتھ سے مصافحہ کیا اسی طرح ادب اور احترام کے رنگ میں اس کے سامنے تھوڑا سا سر بھی جھکایا۔ یعنی سر جھکانے کا ذکر تو نہیں ملتا مگر یہ ذکر ملتا ہے کہ اسی طرح بالکل بعینہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے سلوک فرمایا۔ ایک شخص جود دیکھ رہا تھا اور وہ دوسرے شخص کا حال جانتا تھا اس نے حضرت ابوبکر سے مخاء رت ابو بکر سے مخاطب ہو کر کہا اس کے جانے کے بعد کہ آپ نہیں جانتے کہ یہ تو بڑا سخت منافق شخص تھا۔ یہ دھوکے سے آپ سے اس طرح کر رہا تھا۔ آپ رض پ نے فرمایا میں جانتا تھا جس طرح اس نے مجھ سے کیا میں نے بھی تو اسی طرح اس سے کیا ۔ یعنی آ نے اس کو دھو کہ نہیں دیا آپ نے اس کو اپنے دھوکے میں مبتلا کر دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق پر یہ اثر پڑے کہ میں بہت ہی نیک اور مخلص ہوں اور میں دل میں ان کے خلاف کوئی بغض نہیں رکھتا۔ آپ نے بالکل اسی قسم کی کارروائی کو دہرایا ہے جو اپنی طرف سے تو کوئی دھوکا نہیں بلکہ اخلاق کا تقاضا تھا کہ جس طرح کوئی شخص ملے اسی طرح اس سے ملو لیکن جو اثر وہ آپ کی ذات پر پیدا کرنا چاہتا تھا اس کی ذات پر قائم ہوا اور وہ دھوکہ نہیں دے سکا کیونکہ حضرت ابو بکر اس کے دل کا حال جانتے تھے اور اگر مبتلا ہوا تو خود اپنے دھوکے میں مبتلا ہو گیا۔ یہ ہے مومنوں کا خدعہ۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جہاں مناظروں میں خدعہ سے کام لیا ہے وہاں اسلامی خدعہ سے کام لیا ہے۔ اس خدعہ سے کام لیا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے اور جس سے اللہ کام لیتا ہے اور اس کے بندے کام لیتے ہیں۔ اس بات کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں