خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد ۸ 639 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء پھیل چکی ہے۔ہندوستان سے نکلی اور اس زمانے میں امریکہ تک پہنچی۔ہندوستان سے نکلی اور اس زمانے میں لندن میں سنائی دینے لگیں، مشرق و مغرب میں ہر طرف وہ اہرمیں پھیلتی دکھائی دینے لگیں اور مخالفت کی وہ طاقتور لہریں وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اثر میں کمزور ہوتی چلی گئیں۔نتیجہ حاصل کرنے میں بے سودر ہیں۔پس اتنی بڑی عظیم الشان تاریخ آپ کے پیچھے کھڑی ہے جو آپ کو بقاء کی ضمانت دے رہی ہے۔آپ کو یقین دلا رہی ہے کہ دنیا کی ساری طاقتیں آپ کی مخالف ہو جائیں۔نتیجے کے لحاظ سے آپ لازماً غالب ہوتے چلے جائیں گے اور قوی تر ہو کر اُبھرتے چلے جائیں گے۔اس تاریخ کو بھلا کر جس کی پشت پناہی پر سارے مذاہب کی تاریخ ہے۔اس تاریخ کو بھلا کر جس کی پشت پناہی پر تمام انبیاء کی تاریخ ہے کس طرح پاکستان یا کسی اور چھوٹے سے ملک کی مخالفتوں سے مرعوب ہو سکتے ہیں۔کون سا آپ کو حق ہے، آپ کا ضمیر کس طرح اس بات کو برداشت کر سکتا ہے کہ مخالفت کے وقتی دور سے گزرتے ہوئے اس کی تاریکیوں سے دب کر آپ قدم آگے بڑھانا چھوڑ دیں اور منافقین کے اس زمرے میں شمار ہوں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ روشنی ہوتی ہو تو یہ چل پڑتے ہیں، جب اندھیرے طاری ہو جاتے ہیں تو ان کے قدم رُک جاتے ہیں۔آپ مومنوں کی جماعت ہیں آپ نے اس صفائی کے ساتھ احمدیت کی صداقت کا مشاہدہ کیا ہے کہ ایک سوسال کا ایک ایک لمحہ احمدیت کی صداقت کی گواہی دے رہا ہے۔آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خدا نے کبھی آپ کو نہیں چھوڑا ، آپ نے اپنے کانوں سے سُنا کہ خدا کی تائید کی آوازیں ہمیشہ آتی رہیں اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ ٹھوس تعبیروں میں ڈھلتی رہیں۔اس کے باوجود پھر اگر کوئی حصہ جماعت کا مایوسی کا شکار ہو تو اس سے بڑا ظلم اور کوئی متصور نہیں ہوسکتا۔آج پاکستان میں مخالفت پہلے سے بھی زوروں پر ہے۔مجھے یہ تسلیم ہے لیکن تاریخ کے پیمانوں کو جانچ کر دیکھئے تو اتنا معمولی ساتھوڑا سا دور ہے اور زمین کے ایک تھوڑے سے ٹکڑے پر ہے۔تاریخ میں اس سے بہت زیادہ لمبے مخالفتوں کے دور آئے ہیں۔جن میں سے کمزور جماعتیں نکل کر طاقتور ہوکر اُبھرتی رہی ہیں اور عظیم تر ہو کر وہ اپنی مخالفتوں پر بالآخر غالب آتی رہی ہیں۔آپ یہ سوچتے ہوں گے کہ گیارہ سال ضیاء کی مخالفت کے ہوئے اس سے پہلے ۱۹۷۴ء سے بھٹو صاحب کی