خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 638
خطبات طاہر جلد ۸ 638 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء بڑا سخت اشتعال پیدا کیا گیا لیکن جب مقابل پر کسی احمدی عالم نے سمجھانے کی کوشش کی اور بتایا کہ تمہارے خود گر و جن کو تم اتنا بڑا مقدس جانتے ہو وہ اس قسم کے طرز عمل کے خلاف تھے تم انسانیت سے کام لو، مخالفت کرنی ہے تو حکمت سے کرو۔بعض دفعہ بہت مشکل صورت حال قادیان میں آجایا کرتی تھی اور آگ ٹھنڈی پڑ جایا کرتی تھی مگر بہر حال مخالفت تھی اس میں کوئی شک نہیں۔پس اس پہلو سے سکھوں کو بھی اپنا دشمن بنالیا۔عیسائی حکومت تھی اور یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ عیسائی حکومت کے بوتے پر ،اس کے سائے میں آپ نے کوئی دعوی کیا ہو لیکن عجیب بات ہے کہ عیسائی حکومت کا اس زمانے میں ہندوستان میں عیسائیت پھیلانا مقصد اوّل تھا۔اور وہ جانتے تھے کہ عیسائیت کے پھیلانے سے ان کی حکومت کو استحکام نصیب ہو گا اور وہ تجربہ رکھتے تھے کہ جن جن ملکوں میں بھی انہوں نے حکومت کی ہے وہاں عیسائیت کے فروغ کے نتیجے میں ان کی حکومتوں کو استحکام ملا ہے اور دوام عطا ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک عجیب دعوی کیا اور وہ دعوئی عام مسلمانوں کے مشترکہ عقیدہ کے خلاف تھا۔وہ دعوئی یہ تھا کہ مسیح جسے عیسائی ابن اللہ کہتے ہیں، جسے خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں وہ ایک عام نبی اللہ تھا اور بحیثیت ایک نبی اللہ باقی نبیوں کی طرح وہ بھی کر چکا ہے وہ زندہ نہیں رہا اور آپ نے فرمایا کہ میں اس بات کو قرآن کریم سے بھی ثابت کرتا ہوں، حدیث سے بھی ثابت کرتا ہوں اور بائبل کی رو سے بھی ثابت کرتا ہوں۔چنانچہ عیسائی پادریوں کی طرف سے اس کے نتیجے میں اتنا شدید رد عمل ہوا کہ بعض دفعہ آپ کے قتل کے منصوبے بنائے گئے ، بعض دفعہ آپ کو جھوٹے قتلوں میں ملوث کرنے کے لئے با قاعدہ سازشیں کی گئیں اور اس کا ریکارڈ خود انگریزی عدالتوں میں محفوظ ہے اور خود انگریز جوں نے جب تحقیق کی تو پتا چلا کہ عیسائی پادری تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف قتل کے جھوٹے مقدمے بنائے ہوئے ہیں۔اب بتائیے وہ شخص کس کے سہارے زندہ رہا، ایک آواز اس تنہا شخص کی تھی جو کہتا تھا کہ خدا میرے ساتھ ہے، خدا نے مجھے مامور فرمایا ہے اور اس کے مقابل پر ہندوستان میں اس کے گرد و پیش تمام طاقتور آواز میں اس ایک آواز کو دبانے پر وقف ہو چکی تھیں۔آج آپ کہاں ہیں ، اس مقام سے کتنا آگے سفر کر چکے ہیں، آج وہ آواز قادیان میں دبنے کی بجائے ہندوستان کے گوشے گوشے تک