خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 637 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 637

خطبات طاہر جلد ۸ 637 خطبه جمعه ۲۹ ستمبر ۱۹۸۹ء ہندوستان کی اکثر آبادی ان کے ناموں سے نا واقف ہوگئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پھیلتے پھیلتے آج واقعہ زمین کے کناروں تک پہنچ چکی ہے۔ جب میں نجی گیا تو و تو وہاں کے ایک سکھ مذہبی راہنما نے ایک بہت ہی عمدہ بات کا عمدہ بات کی اور میں حیران ہوا ان کی بات ۔ ہوا ان کی بات سے اس نے نے اپنی تقریر میں زیرہ میں بتایا کہ اس زمانے میں ہندوستان میں تین بڑے مذہبی راہنما پیدا ہوئے ہیں ۔ ایک مرزا غلام احمد صاحب قادیان، ایک دیانند اور ایک اور س انند اور ایک اور کسی سکھ لیڈر کا اس نے نام لیا اور کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان تینوں نے یہ دعوے کئے تھے کہ وہ دنیا کے کناروں تک پہنچ جائیں گے لیکن باقی دونوں تو اپنے اپنے دائروں میں سمٹ کر محدود ہونا شروع ہوئے ۔ ان کو وقتی شہرت ملی اور وہ شہرت جلد مر گئی لیکن عجیب بات ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کا دعویٰ ہر پہلو سے سچا نکلا اور اس نے کہا آج میں اگر چہ احمدی نہیں ہوں مگر میں سکھ ہوں ایک سکھ لیڈر ہوں مگر نجی جو زمین کے کناروں میں شمار ہوتا ہے وہاں میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اے مرزا غلام احمد ! تیری آواز سچی نکلی اور واقعی تیری آواز کو خدا نے زمین کے کناروں تک پہنچا دیا۔ ایسی پیاری عمدہ بات اس نے کی کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ فرشتوں کی تحریک سے ایسی بات کی گئی ہے۔ پھر سکھ تھے جو ماحول میں غیر معمولی اثر اور قوت رکھتے تھے ان کی قوت کا یہ حال تھا کہ اس خاندان کو جس خاندان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وابستہ تھے بارہا سکھوں کی طاقت کے نتیجہ میں اکھاڑ کر قادیان سے باہر نکال دیا گیا۔ جب آپ نے دعوی فرمایا کہ تمہارے بانی حضرت گرو بابا نانک ایک بہت ہی بڑے خدا پرست ولی تھے لیکن کسی نئے مذہب کے بانی نہیں تھے بلکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے عاشق صادق اور آپ ہی کے غلام تھے۔ تو سکھوں میں بھی شدید مخالفت کی ایک لہر اُٹھ پڑی اور بعض دفعہ یہ مخالفت اتنی شدید ہو جایا کرتی تھی کہ احمدیوں کے لئے عام سودا لینے کے لئے بھی قادیان سے نکل کر دوسرے گاؤں میں جانا مشکل ہوا کرتا تھا اور یہ مخالفتیں بھی با قاعدہ منظم صورت اختیار کر گئیں، بڑے بڑے وہاں جلسے اور مناظرے ہوا کرتے تھے۔ سکھوں کے ساتھ مقابلوں میں مجھے یاد ہے ہمارے بچپن کے زمانے تک یہ حال تھا کہ کئی دفعہ سکھ لاٹھیاں اور گنڈا سے لے کر حملہ آور ہو جایا کرتے تھے اور جب وہ دلائل میں شکست کھاتے تھے تو اپنے غصہ کو پھر وہ اپنے اپنے رنگ میں اتارنے کی کوشش کرتے تھے لیکن بالعموم میں نے یہ بھی دیکھا کہ سکھ راہنما بات نسبتاً جلدی سمجھ جایا کرتے تھے۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ