خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 622 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 622

خطبات طاہر جلد ۸ 622 خطبه جمعه ۲۲ ستمبر ۱۹۸۹ء اگر چہ جماعت کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن بہت حد تک یہ اضافہ پاکستان سے آئے ہوئے مہاجرین کے ذریعہ ہوا ہے۔ چنانچہ اس ناروے ہی میں آج ہم جس جگہ اکٹھے ہوئے ہیں یہ مسجد اس سے پہلے اتنی بڑی معلوم ہوتی تھی کہ چند گنتی کے آدمی سامنے کے کمرے میں جہاں میں اس وقت خطبہ دے رہا ہوں اکٹھے ہو جایا کرتے تھے اور یہی سب کچھ جماعت تھی لیکن اب جیسا کہ مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ اس کمرہ سے پچھلا ہال بھی بھرا ہوا ہے اور اس سے پیچھے جو کمرہ ہے وہ بھی بھرا ہوا ہے اور خواتین کا انتظام اس کے علاوہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ پہلو کے جو کمرے ہیں ان میں بیٹھے ہوں تو جہاں تک جماعت کے پھیلاؤ کا تعلق ہے ایک پہلو سے تو ناروے کی جماعت میں نمایاں پھیلاؤ دکھائی دے رہا ہے مگر جہاں تک نارویجین لوگوں کا جماعت کی طرف متوجہ ہونے کا تعلق ہے، اس پہلو سے ابھی تک کوئی نمایاں خوشخبری مجھے نہیں ملی۔ اس جمعہ میں آج کے خطاب میں میں جماعت احمد یہ ناروے کو خصوصیت کے ساتھ اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ نارویجین قوموں میں سے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ سعید روحیں تلاش کریں اور ان پر توجہ دیں اور دعاؤں سے کام لیں کہ اللہ تعالیٰ بکثرت اس قوم کے دل اسلام کی طرف پھیر دے۔ یہی میں یہی میری تلقین دیگر سیکنڈے نیوین ممالک کو بھی ہے کہ وہاں کی جماعتوں کو بھی اس طرف اب خصوصیت سے توجہ دینی چاہئے۔ اس سے پہلے اب تک ہماری جو بھی تبلیغی پالیسی رہی ہے اس کی رو سے عموماً جماعتیں دلائل کے ذریعہ تبلیغ کرتی تھیں اور یہی طریق سیکنڈے نیوین ممالک کے لئے بھی اب تک اختیار کیا جاتا رہا ہے مگر میں نے محسوس کیا ہے کہ یہ دور اب دلائل کا دور نہیں رہا بلکہ اس سے بڑھ کر خدا نمائی کا دور ہے۔ جب تک جماعت احمد یہ میں خدا رسیدہ اور خدا نما وجود پیدا نہیں ہوتے ہم ان ممالک میں کوئی روحانی انقلاب بر پا نہیں کر سکتے ۔ دلائل کے لحاظ سے ان قوموں سے بات کی جاتی ہے جو اپنے مذہب کو اچھی طرح سمجھتے ہوں اور دلائل کی رو سے اپنے مذہب کے عقائد پر قائم ہوں مگر آج کی دنیا میں ایسے بہت کم لوگ ہیں اور یورپین ممالک میں تو ایسے بہت ہی کم لوگ ہیں جو دلائل کی بنیاد پر عیسائیت پر قائم ہوں۔ ایک پر انا طبقہ ہے جن کو ابھی تک نئے زمانے کی ہوائیں نہیں لگیں وہ عیسائیت پر اس وجہ سے قائم ہیں کہ انہوں نے اپنی وراثت میں عیسائیت کو پایا ، ان کی کوشش کا اور ان کی عقلوں