خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 608 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 608

خطبات طاہر جلدے 608 خطبه جمعه ۵ ار ستمبر ۱۹۸۹ء ساتھ انسان دوسرے کی آواز پر لبیک کہتا ہے جس طرح ایک بچے کی پکار پر ماں لبیک کہتی ہے اس طرح آپ کو دنیا کے رشتوں میں کوئی اور مثال دکھائی نہیں دے گی لیکن وہی نرم دل ماں جو اپنے بچے کے لئے بعض اوقات اتنا بے قرار ہوتی ہے کہ اپنی زندگی کے ہر آرام کو جہنم میں جھونک دینے کے لئے تیار ہو جاتی ہے غیروں کی آواز میں سنتی ہے تو اس کے دل میں وہ حرکت پیدا نہیں ہوتی۔یہ جو تعلق ہے یہ درجہ بدرجہ ہر انسانی رشتے پر پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔قومی تعلقات میں بھی ہمیں اسی کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔اب مثلاً جرمنی میں حال ہی میں بعض ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے اس انسانی فطرت کے پہلو پر مزید روشنی پڑتی ہے۔جرمن قوم مظلوم لوگوں کو اپنے ہاں پناہ دینے میں ایک خاص مقام پیدا کر چکی ہے اور اس لحاظ سے اسے دنیا میں ایک شہرت حاصل ہے لیکن ان پناہ دینے والوں اور پناہ لینے والوں کے درمیان ایک فرق ہے کچھ ایسے پناہ لینے والے یہاں آتے ہیں جو یورپ سے تعلق رکھتے ہیں۔کچھ ایسے پناہ لینے والے آتے ہیں جو مشرقی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔پناہ تو دونوں کو دی جاتی ہے مگر پناہ دینے کے انداز میں اور پناہ لینے میں جس قسم کا جذ بہ دکھایا جاتا ہے ان دونوں میں فرق ہے۔پس میں شکوے کے رنگ میں یہ بات بیان نہیں کر رہا بلکہ آپ کو سمجھانے کی خاطر یہ بات بیان کر رہا ہوں کہ حال ہی میں آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا کہ مشرقی جرمنی سے ہزار ہا لوگ بعض دوسرے یورپین ممالک میں پہنچے کیونکہ براہ راست وہ مشرقی جرمنی سے مغربی جرمنی نہیں آسکتے تھے کیونکہ اس راہ میں زیادہ روکیں ہیں۔تو انہوں نے یہ ترکیب اختیار کی کہ وہ دوسرے مشرقی یورپ کے ممالک میں چلے گئے اور وہاں سے پھر مغربی جرمنی کا رخ کیا اور اس کے اوپر جو مغربی جرمنی نے حیرت انگیز محبت اور خلوص کا اظہار کیا ہے وہ دل پر اثر کرنے والی بات ہے۔بجائے اس کے کہ وہ یہاں پہنچتے ، ان کی طرف سے درخواستیں دی جاتیں کہ ہمارے لئے گھروں کا انتظام کرو، ہماری پناہ کا انتظام کرو، ہمیں بعد میں پاسپورٹس کی سہولتیں دیں۔تمام ایسی سہولتیں مہیا کرنے والے ادارے بارڈرز پر ان کے استقبال کے لئے پہنچے ہوئے تھے اور پروگرام یہ ہے کہ آئندہ دس سال تک مسلسل ان آنے والوں کے ساتھ یہی سلوک ہوتا رہے گا اور پاسپورٹس کی درخواست دینے کی بجائے پاسپورٹس کے دفاتر وہاں سرحدوں کے اوپر کھل گئے اور ہر آنے والے کو اسی وقت اس کا پاسپورٹ بنا کر اس کے سپرد کیا گیا۔