خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 56
خطبات طاہر جلد ۸ 56 خطبہ جمعہ ۲۷ / جنوری ۱۹۸۹ء یہ تو انتظامی امور سے بات شروع ہوئی تھی اور ایک ضروری دوسری طرف توجہ پھر گئی اپنی ذات میں یہ بہت ضروری بات تھی لیکن بات اس طرح شروع ہوئی کہ جو بات سمجھائی جائے اسے دُہرائیں اور پھر سنیں۔اس طرح اب ذمہ داریوں کی تقسیم کے وقت آپ سب نے دنیا کی ہر جماعت نے کام کرنا ہے۔ذمہ داریاں تقسیم کریں کیونکہ ایک یا دو اشخاص کے پاس یا مجلس عاملہ کے پاس بھی اتنا وقت نہیں ہے کہ صد سالہ جو بلی کی ساری ذمہ داریاں ادا کر سکے۔بہت کام کو پھیلا نا پڑے گا یہاں تک کہ بعید نہیں کہ بعض جگہ ساری جماعت ہی کسی نہ کسی پہلو سے کام کی ذمہ دار ہو یعنی چند گروہ کسی کام کی طرف توجہ دے رہے ہیں ، چند اور گروہ کسی اور کام کی طرف گویا ٹولیوں میں آپ کو منتظمین بانٹے پڑیں گے اور اس کے لئے وقت اتنا تھوڑا رہ گیا ہے کہ اگر ابھی تک آپ نے پہلی ہدایتوں پر عمل نہیں کیا تو خطبہ سنتے ہی فوراً اس کام پر بیٹھ جائیں اور تقسیم کار کریں پھر ان سب کو جن کے سپر د کام کیا جاتا ہے تحریری اطلاع صرف نہ کریں بلکہ ان کو بلائیں یا ان تک پہنچیں ان کو بات سمجھائیں ، ان کو کام کرنے کا سلیقہ سکھائیں ، ان کو بتائیں کہ اس طرح ہم نے کام کرنا ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا بہت سے کام ہم یہاں کر رہے ہیں اور باقاعدہ کام کے نمونے بنا کر جماعتوں تک پہنچائے جارہے ہیں۔مثلاً سب سے اہم کام اس سال یعنی آئندہ سال کتابوں کی اور لٹریچر کی نمائش ہے اور اسی طرح تصویری نمائش ہے۔اس کام کے لئے تمام دنیا کی جماعتوں میں ایک فلم تیار کر کے بھجوائی گئی ہے کہ ہم نے مرکز میں اس کام کو کیسے کیا ہے اور ہر تصویر جو دکھائی گئی ہے ہدایت میری ان کو یہی تھی اور مجھے یہی انہوں نے بتایا ہے کہ اس ہدایت پر عمل ہوا ہے کہ اس تصویر پر تشریح بسط کے ساتھ کی ہے کہ یہ کام اس طرح وقت لیتا ہے، یہ اس طریق پر کیا گیا ہے، قرآن کریم کے مختلف نسخوں کو ہم نے اس طریق پر سجایا ہے، اقتباسات قرآن کریم کے اس طرح رکھے گئے ہیں اور زبانوں کے اوپر ان کے لیبل کس طرح لگائے گئے ہیں۔غرضیکہ بہت تفصیلی ہدایات پر مشتمل ایک ویڈیو تیار کر کے تمام ممالک کو بھجوائی گئی ہے۔ہمارے جو مرکزی نمائش سیل کے سیکرٹری ہیں مشتاق احمد صاحب شائق آج کل بڑی محنت سے تصویروں کی نمائش ، چارٹس کی نمائش گرافس جو بنائے گئے ہیں ان کی نمائش ان سب کاموں پر محنت کر رہے ہیں اور تقریباً یہ کام مکمل ہو چکا ہے تو امید ہے کہ کچھ حصہ تو غالباً یہ بھجوا چکے ہیں کچھ بڑا حصہ باقی ہے وہ انشاء اللہ جلد جماعتوں تک پہنچ جائے گا اور انہوں نے بھی صرف ہدایتیں دینے پر انحصار نہیں کیا