خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 594 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 594

خطبات طاہر جلد ۸ 594 خطبہ جمعہ ۸ ستمبر ۱۹۸۹ء ہے اور باتیں بھی کرنی ہیں۔چنانچہ انہوں نے بھی اس قسم کے نیک خیالات کا اظہار کیا۔تو جماعت کے لئے جو دلچپسی پید اہورہی ہے وہ اسلام کے لئے ایک عظیم دروازہ کھل رہا ہے اور یہی وہ رستہ ہے جس سے لوگوں نے دراصل اسلام میں داخل ہونا ہے۔ارد گرد دیوار میں کھڑی کر دی گئی ہیں۔بہت سے مسلمان ممالک نے اپنے جاہلانہ رویے کے نتیجے میں اسلام کو بدنام کیا ہے اور جگہ جگہ ان رستوں کو بند کر دیا گیا ہے جن رستوں سے لوگ اسلام میں داخل ہو سکتے تھے۔اس لئے اب دروازہ اگر کوئی ہے تو جماعت احمدیہ کا دروازہ ہے۔لیکن اس دروازے کو وسیع کرنا یہ بنیادی مسئلہ ہے اور یہ دروازہ اس طرح تو نہیں ہے جس طرح ہماری اس مجلس کے سامنے دروازہ ہے یا آپ کے گھروں کے دروازے ہوتے ہیں۔یہ ایک تمثیلی دروازہ ہے جو وسعت اختیار کرسکتا ہے اور یہ وسعت احمدیوں نے اپنے عظمت کردار کے ذریعے پیدا کرنی ہے ورنہ یہ دروازہ تنگ رہے گا اور کھلے گا نہیں۔ایک نعمان کی ضرورت نہیں ہے لاکھوں کروڑوں نعمانوں کی ضرورت ہے جو مختلف ملکوں میں پیدا ہوں اور اپنی عظمت کردار کے ذریعے لوگوں کو اسلام کی طرف متوجہ کریں اور ان کے دل کے رستے سے لوگ پھر اسلام میں داخل ہونا شروع ہوں۔ان کی آنکھوں کی راہوں سے وہ اسلام کے حسن کا مطالعہ کریں۔اس نقطہ نگاہ سے داعین الی اللہ کی ضرورت کی شدت محسوس ہو رہی ہے مگر اس نوع کے داعی الی اللہ جن کا میں بیان کر رہا ہوں کہ ان کے ساتھ ان کے کردار میں ایک حسن اور کشش ہو۔بعض لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا کردار ٹھیک ہے۔ہم نمازیں پڑھتے ہیں ، ہم جھوٹ نہیں بولتے ، ہم کسی کا حق نہیں مارتے اور یہی تبلیغ ہے لیکن یہ غلط نہی میں دور کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے عظمت کردار کی اہمیت بیان کرنے کے باوجود قول حسن کو پہلے رکھا ہے۔وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ (حم السجدہ : ۳۴) اور گونگی شرافت کا نام نہیں لیا اور انبیاء کی تاریخ جو ہمارے سامنے پیش کی ہے اس میں کہیں بھی گونگی شرافت دکھائی نہیں دیتی بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ شرافت کو دیکھ کر اگر وہ گونگی ہو تو مخالفت ختم ہو جایا کرتی ہے اور لوگ یہ اصرار کرتے ہیں کہ تم شریفانہ زندگی بسر کر ولیکن منہ سے کچھ نہ بولو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔تو دعوت الی اللہ محض عظمت کردار سے نہیں ہوا کرتی اس کے لئے زبان کا حرکت میں آنا بہت ضروری ہے اور اس کے نتیجے میں شرافت کے باوجود پھر مخالفتیں پیدا ہوتی ہیں لیکن جو