خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 592
خطبات طاہر جلد ۸ 592 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۹ء دعا بھی سن لیتا ہے لیکن بندوں میں یہ بات کم دکھائی دیتی ہے۔خودان کا کیسا بھی کردار ہوا گر کسی اچھے کام کی طرف بلانے والے میں معمولی سانقص بھی پائیں تو اکثر وہ اس نقص کو ابھار کر پیش کرتے ہیں اور اس کی ساری اچھی باتوں کو اس وجہ سے رد کر دیتے ہیں کہ کہنے والے کے اندر یہ خرابی موجود ہے۔تو قرآن کریم سے جب یہ پتا چلا کہ دعا کا بھی بنیادی طور پر عظمت کردار سے تعلق ہے اور استثنائی طور پر تو خدا کی رحمت لا محدود ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ جب چاہے جس کی چاہے دعاسن لے یہ اس کی نفی نہیں ہو رہی مگر بندے بالعموم زیادہ سخت دل ہوتے ہیں، زیادہ تنقید کرنے والے ہوتے ہیں اور ان پر وہی اچھا قول اثر کرتا ہے جس کے ساتھ عظمت کر دار موجود ہو۔اس لئے مبلغ بنے کے لئے جماعت کو اپنے کردار کو بلند کرنے کی نہایت ضرورت ہے اور جہاں دعوت الی اللہ کے وعدے ملتے ہیں وہاں مجھے یہی فکر شروع ہو جاتی ہے کہ دعوت الی اللہ کرنے والوں نے اپنے اندر کوئی پاک تبدیلی پیدا بھی کی ہے کہ نہیں۔جہاں کرتے ہیں وہاں پھل لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔جہاں اس ضمن میں کوئی مؤثر اقدام نہیں ہوتا نہ جماعت کی انتظامیہ کی طرف سے نہ انفرادی طور پر وہاں فہرستیں تو بن جاتی ہیں مگر ان کو پھل نہیں لگتا۔اس معاملے کی اہمیت کا ایک مشاہدہ میں نے اپنے گزشتہ سفر ویلز میں کیا۔ویلز میں چند دن کے لئے گیا تھا وہاں جماعت نے علاقے کے معززین کو سوال و جواب کی مجلس کے لئے بلایا ہوا تھا۔میرے ساتھ بائیں ہاتھ وہاں کے شہر کے ایک بہت ہی ہر دلعزیز دوست اور میٹر بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھے کہا کہ آپ نے جو گزشتہ دفعہ یہاں تقریب منعقد کروائی تھی جس میں قرآن کریم کے ویلش ترجمہ کی نقاب کشائی کی گئی تھی اس میں ایک لمبا سا آدمی جو انگریز تھا اور Yorkshire کی طرف سے آیا تھا وہ کون تھا۔میں نے ان کو بتایا کہ وہ نعمان نیومین ہیں اور ویلز سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ویلش احمدی ہیں اور غالبا اس لحاظ سے تاریخی حیثیت رکھتے ہیں کہ پہلے ویلش احمدی ہیں۔تو اس کے بعد ایک لمبے عرصے تک وہ مجھے بار بار یہی کہتا رہا کہ اس شخص کے چہرے پر ایک ایسی صداقت تھی اور اس صداقت کا ایک ایسا گہرا اثر میرے دل پر پڑ رہا تھا کہ اس سے باتیں کرتے کرتے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ یہ شخص سچا ہے اور جو بات کہہ رہا ہے اس میں دھوکا نہیں ہوسکتا۔اس نے کہا میرے دل پر اتنا گہرا اثر چھوڑا ہے اس شخص نے حالانکہ تھوڑی باتیں ہوئیں لیکن میں نے جب ان کی چال ڈھال