خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 591 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 591

خطبات طاہر جلد ۸ 591 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۹ء قول حسن اور اعلیٰ کردار کے حامل داعی الی اللہ کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی (خطبه جمعه فرموده ۸ ستمبر ۱۹۸۹ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔گزشتہ چند سالوں سے میں جہاں جماعت احمدیہ کو دعوت الی اللہ کی طرف مسلسل توجہ دلا رہا ہوں وہاں ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیتا چلا آرہا ہوں کہ اپنے کردار کو عظیم بنانے کی کوشش کریں۔کیونکہ قرآن کریم سے متعدد جگہ یہ واضح ہدایت ملتی ہے کہ جب تک کردار میں عظمت نہ ہو نہ بات میں عظمت پیدا ہو سکتی ہے نہ دعا میں عظمت پیدا ہو سکتی ہے۔ایک جگہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ تمہاری دعا آسمان کی طرف رفعت اختیار نہیں کر سکتی ، آسمان کی طرف بلند نہیں ہو سکتی جب تک تمہارا کر دارا سے بلند نہ کر رہا ہو۔اس میں قبولیت دعا کا ایک بہت گہرا راز ہے اور دوسری جگہ ایک موقع پر یہ فرمایا کہ قول حسن بہت چیز ہے اس کے بغیر دعوت الی اللہ ممکن نہیں مگر شرط یہ ہے کہ ساتھ عمل اچھے ہوں۔تو در حقیقت یہ دونوں مضمون ایک ہی مرکزی فلسفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔یعنی دعا میں بھی خدا بھی بات اسی وقت سنتا ہے جب اس کے پیچھے عظمت کردار موجود ہو اور اس کے بغیر دعا میں طاقت پیدا نہیں ہوتی۔تو بندے کیسے تمہاری بات سن لیں گے جو خدا کی نسبت کم رؤف و رحیم ہیں، کم توجہ کرنے والے ہیں۔خدا کی نسبت بہت ہی کم یعنی کوئی نسبت ہی نہیں در حقیقت۔تمہاری غلطیوں سے در گزر کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو بعض کمزوروں کی دعا بھی سن لیتا ہے، بعض دفعہ بد کرداروں کی