خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 585 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 585

خطبات طاہر جلد ۸ 585 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء افریقہ کو کھانا پہنچانے کے لئے انہوں نے میوزک سے کام لیا۔یہ بڑی دلچسپ بات ہے اس لحاظ سے کہ انسانی ہمدردی کے اظہار کے لئے وہی چیز اختیار کی جو دراصل انسان کی تباہی کا موجب ہے اور وہ جانتے تھے کہ اگر محض انسانی ہمدردی کی خاطر اُن سے پیسے مانگے جائیں گے تو وہ پیسے نہیں دیں گے چنانچہ بعض میوزیشن (Musition) نے اپنا وقت مفت دیا اور چوبیس گھنٹے سے زیادہ عرصہ مسلسل وہ گاتے بجاتے اور ناچتے رہے اور اس میوزک کی خاطر اس کثرت سے لوگ آئے اور جو کچھ بھی پیسے لئے انہوں نے اس دوران وہ اُنہوں نے افریقہ کے لئے اُن بھوکوں کی بھوک مٹانے کے لئے استعمال کئے تو ناچ گانے کے ذریعے انہوں نے انسانی ہمدردی کا اظہار کیا اور جتنی رقم اکٹھی ہوئی اس کا بڑاذکر کیا گیا۔ساری دنیا میں اس کا شور پڑا اس طرح تھیں گھنٹے یا جتنا وقت تھا مسلسل یہ جو Troops تھے یہاں سے جانے والے Troops تھے انہوں نے انسان کی خاطر قربانی کی۔ٹھیک ٹھاک انہوں نے پیسے دیئے میں نے جب حساب کیا تو پتا لگا کہ وہ ساری دولت جو انہوں نے سارے یورپ اور امریکہ سے اکٹھی کی تھی افریقہ کے لئے وہ اُس سے کم تھی جو ایک دن میں اہل برطانیہ شراب پر لگاتے ہیں۔اس لئے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ دنیا کی لذت یابی کی عادت کیسی خوفناک چیز ہے اور کس طرح قوموں کو جکڑ دیتی ہے اور اچک بھی لیا کرتی ہے۔یہاں تک کہ اگر وہ انسانی ہمدردی میں کچھ کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے بلکہ وہ انسانی ہمدردی بھی لذت یابی کی شکل میں ہی ظاہر ہوئی ہے چنانچہ یہ گانے بجانے والے اس طرح مسلسل چو بیس یا پچیس گھنٹے نہ گاتے تو افریقہ کے لئے پیسے نہیں اکٹھے ہو سکتے تھے اور اگر آپ یہ خیال کریں کہ سارا یورپ ایک دن کے لئے شراب سے باز آجاتا اور یہ کہتا کہ ہم اپنے غریب بھوکے ننگے بھائیوں کے لئے ایک دن شراب نہیں پئیں گے تو یہ تحریک کامیاب نہ ہوتی۔کیونکہ جس طرح وہ تحریک کامیاب نہیں ہوئی اس سے یہ پتا چلا ہے کہ یہ تو جکڑے گئے ہیں دنیا کی لذتوں میں اور دنیا کی لذتوں کے ذریعہ ہی ان کی انسانی ہمدردی کے جذبات ابھرتے ہیں ورنہ نہیں ابھرتے جب یہ حالات ہو جائیں قوموں کے تو لازماً پھر اقتصادی بحران آیا کرتے ہیں۔یہ بڑا تفصیلی اور گہرا مضمون ہے میں خطبہ کو لمبا نہیں کرنا چاہتا مگر میں اس مضمون پر میں اپنی مجالس سوال و جواب میں مختلف مواقع پر روشنی ڈال چکا ہوں۔یہ سارا معاشرہ اس وقت مصنوعی لذت یابی میں اس