خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 584
خطبات طاہر جلد ۸ 584 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء کی طرح اپنی ان عادات کو زندہ رکھنے اور اُن کی بقا کے لئے اُن کو مزید اور پھر مزید دولت کی ضرورت پڑتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ ان کی زندگی کی طرز بے ربط ہوتی جاتی ہے۔آج کی مغربی دنیا کا رہن سہن گزشتہ دس سال کی مغربی دنیا کے رہن سہن کے مقابل پر بہت زیادہ ہے بہر حال اور آج اُن کی لذت یابی جن چیزوں کی محتاج ہے آج سے دس سال یا بیس سال یا اُس سے پہلے آپ دیکھیں ہرگز اس حد تک محتاج نہیں تھی بلکہ بعض چیزوں کا تصور بھی نہیں تھا۔آج جس کثرت سے بعض ایسی ایجادات ہوئی ہیں جس سے اُن کے رجحانات جو حصول لذت کے رجحانات ہیں اُن کو تقویت ملتی رہی ہے ایسی ایجادات آج سے دس سال یا بیس سال پہلے موجود نہیں تھیں۔تو روز بروز لذت کے حصول کے لئے معاشرہ اپنی تمام اقتصادیات کا رُخ اس طرف پھیرتا چلا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اُن کے رہن سہن کے لئے جو بنیادی ضروریات ہیں وہ اُن کی آمد کا ایک بہت معمولی حصہ رہ جاتا ہے اور اُن کی آمد کا بہت بڑا حصہ اُس ظاہری چمک دمک کوزندہ رکھنے اور اُس کی بقا کے لئے استعمال ہونے لگتا ہے۔یہ رُخ ساری مغربی دنیا میں آپ کو بڑھا ہوا دکھائی دے گا۔ایک بھی استثناء نہیں اور پھر مغربی دنیا میں بلکہ تیسری دنیا میں بھی ، غریب ملکوں میں بھی افریقہ میں بھی ، پاکستان میں بھی ، ہندوستان میں جہاں جہاں یہ مغربی چمکتی تہذیب پہنچی ہے وہاں یہ رجحانات آپ کو نمایاں ہوتے دکھائی دیں گے ان میں انسانی زندگی کا جو رُخ ہے وہ مزید لذت اور پھر مزید لذت اور پھر مزید لذت کی طرف اتنا آگے بڑھ جاتا ہے۔معاشرہ کے وہ حصے جو غریب ہیں ان کی طرف سے توجہ ہٹ جاتی ہے اور یہاں تک کہ خود غرضی شدت کے ساتھ اتنا انسانی زندگی کے خیالات اور اس کے جذبات پر قابض ہو جاتی ہے کہ ایسا انسان جس کو اس قسم کی لذتوں کی عادت پڑی ہو اس کو کچھ بھی پروانہیں رہتی کہ جس وقت وہ لذت میں مگن اور محو ہے اُس وقت ہزاروں لاکھوں بعض دفعہ کروڑوں انسان بھوکے مر رہے ہوتے ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے معصوم ایڑیاں رگڑ رہے ہوتے ہیں اُن کو کھانا تو در کنار بعض دفعہ پینے کا پانی بھی میسر نہیں آرہا ہوتا لیکن جس قوم کو اس معاشرے کی عادت پڑی ہوان کے لئے ناممکن ہے کہ وہ قربانی کر کے اپنے غریب ہم جنس بھائیوں کے لئے کچھ دیر کے لئے لذتوں سے منہ موڑ لیں۔میں نے اس کی مثالیں پہلے بھی دی ہیں یہاں انگلستان میں مجھے یاد ہے ایک دفعہ جب افریقہ بھوکا مر رہا تھا تو