خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 580
خطبات طاہر جلد ۸ 580 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء عطا فرما جور شد کی تہذیب ہو، عفو کی تہذیب ہو اور اس تہذیب کے نتیجے میں انسان اپنی ترقیات سمیت دنیا سے مٹانہ دیا جائے بلکہ وہ خدا کی خاطر خدا کی ذات سے وابستہ ہوکر زندہ رہنے کا گر سیکھ لے۔یہ وہ پیغام ہے جو ان آیات میں ہمیں دیا گیا ہے اور اب اس نقطہ نگاہ سے ذرا تاریخ عالم پر نگاہ ڈالتے ہیں تو آپ یہ دیکھ کر حیران ہوں گے کہ یہ کسی ایک زمانے کے انسان کا ذکر نہیں ، نہ ایک زمانے کے سطح زمین پر بسنے والوں کا ذکر ہے ، نہ ایک زمانے میں زیر زمین غاروں میں بسنے والوں کا ذکر ہے بلکہ تمام انسانی تاریخ بار بار اپنے آپ کو اس نقطہ نگاہ سے دھراتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔بسا اوقات ایسی قو میں سطح زمین پر ابھریں جنہوں نے دنیاوی ترقیات کیں اور اُن ترقیات کے بعد خدا تعالیٰ نے اُن کو جو آسائش کے ساتھ رہنے کا موقع عطا فرمایا مگر وہ اس آسائش میں ایسا ڈوب گئے کہ محض دنیا کی زینت کے غلام بن کر رہ گئے اور خدا کو انہوں نے بھلا دیا اور پھر اسی دور میں یعنی ہر ایسے دور میں خدا کے ایسے بندے بھی آپ کو دکھائی دیں گے جن کو ان دنیا کی لذتوں سے کوئی تعلق نہیں تھا یعنی دنیا میں رہتے ہوئے بھی وہ اس زمانے کے نہیں بلکہ قدیم زمانوں کے انسان دکھائی دیا کرتے تھے۔خدا تعالیٰ نے ان جدید دنیا کے لذت پرستوں کو مٹا دیا اور ان قدیم زمانے میں بسنے والے انسانوں کو زندہ رکھا۔یہ وہ بار بار تاریخ کا دھرایا جانے والا سبق ہے جو ان آیات میں ہمیں ملتا ہے۔آج کے دور پر جب ہم ان آیات کو چسپاں کرتے ہیں تو بعینہ یہی تفاوت سامنے آتا ہے۔آج خصوصیت کے ساتھ مغربی تہذیب ایسے تمدن کی فریفتہ ہو چکی ہے جو دنیا کی ظاہری لذتوں سے تعلق رکھتا ہے اور کلیۂ اس لذت یابی میں اور اس کی جستجو میں منہمک ہو چکی ہے۔عملاً اگر آپ غور سے دیکھیں تو اس درجہ دنیاوی لذتوں کی غلام ہو چکی ہے یہ مغربی دنیا کہ اس سے رہائی اور چھٹکارے کی بظاہر کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔آج جب آپ ان کو یہ پیغام دیں کہ خدا کی خاطر خدا کے فرمان کے تابع تم شراب نوشی سے پر ہیز کرو تم ناچنے سے پر ہیز کر وہ تم گانے سے پر ہیز کرو اور تم ایک سادہ عام پاکیزہ معاشرے کی طرف واپس لوٹ آؤ تو وہ آپ کو اس طرح دیکھیں گے جیسے آپ پاگل ہو چکے ہیں۔وہ آپ کو اس طرح دیکھیں گے جیسے آپ کسی پرانے زمانے سے غاروں سے نکل کر آنے والے انسان ہیں اور آپ کو علم نہیں کہ دنیا ہوتی کیا ہے۔یہ کیسی پاگلوں جیسی باتیں کرتے ہیں وہ کونسا جدید ترقی یافتہ معاشرہ ہے جو شراب کے بغیر زندہ رہ سکے۔یہ کونسا معاشرہ ہے جس سے میوزک کو تم