خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 572
خطبات طاہر جلد ۸ 572 خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۸۹ء بوجھ بھی اٹھائے ہوئے تھی۔ اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے بوجھ خود نہ اٹھا سکیں ۔ تو جہاں تک پاکستان کی جماعتوں کا تعلق ہے وہ اللہ کے فضل کے ساتھ اپنی ساری ضرورتیں خود پوری کرتی رہیں گی اور ان ضرورتوں کو وہ خاص طور پر پیش نظر رکھیں گی ۔ قرآن کریم کے متعلق ایک دفعہ پھر میں بتاؤں کہ نماز اس طرح سکھانی شروع کرنی ہے کہ پہلے نماز کے کچھ لوازمات بتائے جائیں اور نماز کا مختصر تعارف کروایا جائے۔ پھر اس کے بعد کہا جائے کہ اب تیار ہو نما زیاد کرنے کے لئے اور پھر نماز کی ایک ایک سطر یا ایک ایک آیت جو بھی صورت ہو وہ آہستگی سے پڑھ کر سنائی جائے۔ جو غلطیاں عموماً ان علاقوں میں تلفظ کی پائی جاتی ہیں ان کی طرف ساتھ ہی توجہ بھی دلائی جائے اور متنبہ کیا جائے کہ بعض لوگ ”و“ کو ”ب“ پر جاتے ہیں اور ”ب“ کو 66 وو و بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح ”ش“، ”س“ میں فرق نہیں کر سکتے اور بھی بہت سے علاقائی تلفظ کے رجحانات ہیں جو روز مرہ قرآن کریم کی تلاوت میں دقتیں پیدا کر دیتے ہیں ۔ تو جس علاقے میں جو تلفظ کی غلطیاں پائی جائیں بتایا جائے کہ ہم نے یہ پڑھایا تھا ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ، وسم اللہ نہیں ہے یا بشم اللہ نہیں ہے۔ آپ غور سے سنیں اس کو اس طرح ادا کرنا ہے اور جہاں ٹھہرنا ہے وہاں ٹھہر کے بتایا جائے کہ یہاں ٹھہرنا ہے۔ جہاں نہیں ٹھہرنا وہاں یہ بتایا جائے کہ یہاں نہیں ٹھہرنا اور رفتہ رفتہ آہستگی کے ساتھ خوب اچھی طرح تلفظ سمجھاتے ہوئے ایک دفعہ نماز کے ایک حصے سے گزار دیا جائے پھر کہا جائے کہ اب ہم آہستہ آہستہ اس کی رفتار کو کچھ تیز کریں گے آپ ہمارے ساتھ شامل ہوں ۔ پھر رفتہ رفتہ اس کی رفتار تیز کر کے ان کو بتایا جائے ۔ پھر کچھ دیر کے بعد کہا جائے کہ اب ہم اچھی تلاوت کی آواز کے ساتھ اسی چیز کو دوبارہ پڑھ کے سناتے ہیں۔ آپ میں اگر کوئی ترنم کا جذبہ ہے، ترنم کا شوق ہے تو آپ اس آواز کی نقل کی کوشش کریں یا اسی طرز پر پھر اپنی آواز میں جو آپ کو پسند پسند ہے ہے وہ و ترنم کے ساتھ نماز کی تلاوت کر کے دیکھیں کم سے کم قرآن کریم کے حصے کی ۔ بلکہ اسی کی ہونی چاہئے باقی کی تو ترنم کی ضرورت نہیں ہے۔ تو یہ سکھایا جائے ۔ پھر اس کے بعد نماز کے ترجمے کی طرف متوجہ ہوں ۔ آہستہ آہستہ اسی طریق پر ترجمہ ۔ سکھائیں، آخر تک پہنچیں، کچھ حکمتیں بیان کریں اور یہ جو کورس ہے یہ کم سے کم دس پندرہ دن تک جاری رہنا چاہئے ۔ یہ ایسا کو رس نہیں ہے جو ایک دن میں ختم ہو سکے یا چند دنوں میں بھی ختم ہو سکے۔ میرا اندازہ