خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 571
خطبات طاہر جلد ۸ 571 خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۸۹ء ہوں۔اگر بیک وقت سارے علاقوں میں ہر گاؤں میں ایسی چیزیں مہیا نہ ہو سکتی ہوں جو آہستہ آہستہ ہو جائیں گی انشاء اللہ پھر علاقوں کو چھوٹے چھوٹے حلقوں میں تقسیم کر لیا جائے اور ایک حلقے میں دو تین چار پانچ گاؤں رکھے جاسکتے ہیں اور اس میں ایسا پروگرام رکھا جاسکتا ہے کہ باری باری یہی مشین اپنی کیسٹس کے ساتھ گھومنا شروع کرے۔جب ایک پروگرام پہلے دے دیا اور پھر اگلے پروگرام کو شروع کرنے سے پہلے وہی پہلا پروگرام دوسرے راؤنڈ میں شروع کرا دیا۔چکر لگا کے واپس پہنچے تو پہلا پروگرام پھر سنایا اور اس کی یاددہانی کے طور پر اسے پھر دوبارہ سنایا اور اگلے پروگرام کا پہلاسبق دے دیا۔اس ضمن میں ایک بہت اہم بات بتانے والی یہ ہے کہ اتنا Ambitious پروگرام، اتنا وسیع ولولے والا پروگرام پہلے نہ بنائیں کہ وہ ہضم نہ ہو سکے لوگوں کو۔چھوٹے پروگرام پہلے بنائیں اور ان کو عام کر دیں۔اس کے بعد آرام سے بیٹھ کر پھر دوسرا پروگرام سوچیں اور پھر اس کو ٹیسٹس میں بھر کر پھر مہیا کرنا شروع کریں۔ایک نماز سے شروع کریں تو پھر نماز کے بعد اگلے قدم بھی اٹھا ئیں۔نماز کے علاوہ روز مرہ کے مسائل جو ایک مسلمان کو معلوم ہونے چاہئیں ان پر تربیتی پروگرام ریکارڈ کئے جائیں۔پھر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی زندگی کے حالات ، آپ کے صحابہ کے حالات پر سادہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو ہر عشق کا دعویٰ کرنے والے کو ضرور معلوم ہونی چاہئیں وہ بیان کی جائیں اور اس طرح یہ جو سال کا بقیہ حصہ ہے اس میں کم سے کم اتنے پروگرام ہمارے تیار ہو جائیں کہ ہم پھر اطمینان سے کہہ سکیں کہ اگلی صدی میں ہم ایک تربیت کا نہایت عمدہ اور قابل عمل پروگرام لے کر داخل ہوئے ہیں۔امید ہے اس سلسلے میں جماعتیں جا کر اپنے فرائض کی طرف متوجہ ہوں گی۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے پاکستان کی جماعتیں چونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خود اپنے بوجھ اٹھانے کے قابل ہیں اس لئے میں نے پاکستان کا نام نہیں لیا تھا اس تحریک میں۔ایک ہمارے معزز بزرگ ہیں جنہوں نے مجھے توجہ دلائی کہ آپ نے افریقہ اور ہندوستان کے نام تو لے لئے لیکن پاکستان کا نام بھول گئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے ان کی توجہ دلانے سے خیال آیا۔ہو سکتا ہے اور دلوں میں بھی یہ خیال پیدا ہو۔نعوذ باللہ کسی ناراضگی کے نتیجے میں نہیں بلکہ خوش اعتقادی کے نتیجے میں یہ بات ہوئی ہے مجھے پورا یقین ہے پورا اعتماد ہے کہ پاکستان کی جماعتیں اللہ کے فضل سے خود کفیل ہیں نہ صرف خود کفیل ہیں بلکہ جب تک حکومت کے قوانین اجازت دیتے تھے وہ دنیا کی جماعتوں کے