خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 570

خطبات طاہر جلد ۸ 570 خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۸۹ء تو میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ یہ نئے زمانے کی ایجادات اسلام کی خدمت کے لئے ہی دراصل انسان کو عطا ہوئی ہیں اس لئے ان سے پورا استفادہ کرنا چاہئے۔گزشتہ چند سالوں سے ہم نے افریقہ میں ہر قسم کے جدید آلات جماعتوں کو مہیا کرنے شروع کئے ہوئے ہیں اور ٹیسٹس کے علاوہ ویڈیوز بھی اور آڈیو ویڈیو کے دوسرے جو بھی نئے ذرائع انسان کو عطا ہوئے ہیں ان سے جماعت کو بھی مستفید کرنے کے لئے پروگرام بھی ہیں اور ساتھ ساتھ جس حد تک توفیق مل رہی ہے وہ آلات مہیا بھی کئے جارہے ہیں۔تو جہاں تک آڈیو ویڈیو کا تعلق ہے، ویڈیو کے ذریعے پیغام دکھانے کا افریقہ اور بعض دوسرے غریب ممالک میں وہ شاذ کے طور پر استعمال تو ہو سکتے ہیں۔چند مجالس میں تو استعمال ہو سکتے ہیں روز مرہ کی زندگی میں وہ کارآمد نہیں ہو سکتے۔روزمرہ کی زندگی کے لئے آڈیو کیسٹس وہ جن کا صرف سننے سے تعلق ہے تصویریں ساتھ نہیں ہوتیں بالکل ہلکے چھوٹے چھوٹے کیسٹس ریکار ڈرنکل آئے ہیں جو ایک فیملی کی ضرورت کو تو بہت عمدگی سے پورا کر سکتے ہیں لیکن بعض غریب ممالک ایسے ہیں جہاں یہ بھی پوری طرح موجود نہیں اور بڑے بڑے علاقے ہیں جہاں بہت کم آڈیو ٹیسٹس لوگوں کے پاس موجود ہیں۔اس لئے جہاں تک ان غریب ممالک کا تعلق ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس نئی تحریک کے نتیجے میں جو میں نے آپ کے سامنے رکھی تھی افریقہ اور ہندوستان کے غریب علاقوں کے لئے ہم ٹیسٹس پر بھی خرچ کریں گے اور تربیت کے لئے جو بھی ضرورتیں ہیں وہ انشاء اللہ پوری کریں گے لیکن آڈیو کی ضرورت اس لئے زیادہ ہے کہ اکثریت ان علاقوں کی پڑھنا بھی نہیں جانتی اور معلمین بھجوا کر ان کی تربیت کرنا بہت مشکل ہے۔اس لئے جماعتی نظام کے تابع ہر احمدی جماعت کے لئے بالآخر ایک ایسا لیسٹس ریکارڈر مہیا ہو جانا چاہئے جو مضبوط ہو۔دیہاتی علاقوں میں چونکہ اس کا استعمال بعض دفعہ نازک نہیں ہوتا بلکہ تختی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔استعمال میں ملائمت نہیں ہوتی بلکہ خفی پائی جاتی ہے۔اس لئے نازک مشینیں ٹوٹ جاتی ہیں اور بڑی جلدی ضائع ہو جاتی ہیں۔اس لئے تحریک جدید کے اس شعبہ کو جس نے یہ کام کرنا ہے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ دیہات کی مناسبت سے وہ آلات چنیں جائیں اور ٹھوس آلات ہوں، بڑی آواز والے ہوں تا کہ دیہاتی تربیت کے لئے ایک مسجد میں بچوں کو اور بڑوں کو اکٹھا کر کے ان کی تربیت کے پروگرام بنائے جائیں اور ان سے وہ سب مستن