خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 569 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 569

خطبات طاہر جلد ۸ 569 خطبه جمعه ۲۵/اگست ۱۹۸۹ء بیان کیا ہے ہر احمدی بچے بڑے کو سو فیصدی نماز کا ترجمہ آنا چاہئے ، اس کے آداب آنے چاہئیں، نماز کے سلسلے میں جو لوازمات ہیں وہ معلوم ہونے چاہئیں اور متعلقہ مسائل معلوم ہونے چاہئیں۔اس سلسلے میں ہمارے پاس جو کمی ہے وہ اساتذہ کی ہے۔وقف جدید کے معلمین بھی اسی خاطر دیہات میں پھیلائے گئے تھے کہ وہ جا کر اس تربیت کی کمی کو دور کریں گے لیکن ایک تو مشکل یہ ہے کہ خود وقف جدید کے جو معلمین تھے ان کا اپنا معیار اتنا بلند نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ وہ بہت ہی تھوڑے ہیں جماعت کی تعداد کے مقابل پر۔جماعت کی تعداد تو اب کثرت سے پھیلتی ہی چلی جارہی ہے اور وقف جدید کے معلمین تو پہلے بھی پورے نہیں آسکتے تھے ایک پاکستان میں ہی آپ دیکھ لیں ہزاروں جماعتوں میں ایک سو سے کم معلمین کس طرح اپنے فرائض ادا کر سکتے ہیں اور ضرورتوں کو پورا کر سکتے ہیں اور دنیا کے اکثر حصوں میں وقف جدید ہے بھی نہیں۔ایسے معلم کہاں سے آئیں گے۔اس کا ایک حل میرے ذہن میں آیا جس کے متعلق میں نے اپنے مرکز سے آنے والے ناظم وغیرہ کونصیحت کی ہے کہ ٹیسٹس سے ہم استفادہ کر سکتے ہیں اور اس کمی کو دور کر سکتے ہیں۔اس ضمن میں میں اب اس خطبہ کے ذریعے ساری دنیا کی جماعتوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ کیسٹس میں تربیتی پروگرام اور تعلیمی پروگرام اس طرح بھر میں جیسے ایک بالکل چھوٹے بچے اور ان پڑھ کو کوئی چیز سکھائی جا رہی ہے اور یہ نہ سوچیں کہ ایک ٹیسٹس میں آپ تیزی سے کوئی مضمون بھر دیں اور توقع رکھیں کے لوگ بار بار سنیں گے بلکہ تھوڑی بات پھیلا کر کریں اور بار بار کریں۔یہاں تک کی ایک کیسٹ اگر پوری جماعت کو نہیں سنبھال سکتی تو نہ سہی دو کیسٹس لگالیں تین لگا لیں لیکن جو شخص بھی لیسٹس سننا شروع کرے ساتھ ساتھ اس کو بات یاد ہوتی چلی جائے۔اس کا مضمون ذہن نشین اور دل نشین ہوتا چلا جائے۔اس مقصد سے تمام دنیا میں خصوصاً دیہاتی علاقوں میں ٹھوس تربیت کے پروگرام مرتب ہونے چاہئیں اور افریقہ میں ہر زبان میں جو افریقہ میں بولی جاتی ہے اسی طریق سے ٹیسٹس تیار کئے جائیں یعنی جیسا کہ آپ دیکھ چکے ہیں اس کثرت سے اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے افریقہ میں احمدیت کی طرف رجحان ہوا ہے کہ خوشی اور تشکر کے جذبات کے ساتھ اسی قدر فکر کے جذبات نے بھی دل کو گھیر لیا ہے ان لوگوں کی تربیت ہم کیسے کریں گے۔