خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 556 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 556

خطبات طاہر جلد ۸ 556 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء تلے ہوئے ہیں۔اس کے باوجود انہوں نے اپنی تقاریر میں یہ اعلان کئے ہیں کہ وہ لوگ جو احمدیت کا تعاقب کرنے کے لئے یہاں پہنچتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولویوں کی زبان ان تک پہنچی ہے کیونکہ یہ خاص ان کا محاورہ ہے ان کی دلچسپی کا کہ ہم احمدیت کا ہر جگہ تعاقب کریں گے۔تو ایک بہت بڑے پولیس افسر نے جسے ہمارے سکول کی سلامی دی تھی ایک موقع پر انہوں نے اس کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ جو لوگ احمدیت کے تعاقب کے نام پر یہاں پہنچ رہے ہیں میں ان کو بھی خبر دار کرتا ہوں اور سیرالیون کے بسنے والے باشندوں کو بھی خبر دار کرتا ہوں کہ وہ احمدیت کا تعاقب نہیں بلکہ ہر سیرالیونی کا تعاقب کرنے یہاں پہنچ رہے ہیں اور ہم انہیں نا کام کردیں گے۔ایسے ایسے عظیم الشان خراج تحسین جماعت کو دئے گئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔بڑے کھل کے حکومت کے نمائندوں اور افسران نے کہا کہ یہ وہ جماعت ہے جس نے ہمیں آکے بچایا۔جس نے ہم پر احسانات کئے۔اب ہم آج کے آنے والوں کی خاطر ان کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔اس موقع پر جو ایک خبر سے مجھے بہت ہی خوشی ہوئی وہ یہ ہے کہ (Rocopoor) میں جہاں حضرت الحاج نذیر احمد صاحب علی نے احمدیت کا پیغام پہنچایا تھا اور بڑی قربانیاں دی تھیں سب سے پہلے جس مکان میں وہ آ کے اترے تھے جو سڑک اس مکان کے پاس سے گزرتی ہے وہاں کے پیرا ماؤنٹ چیف نے سوسال پورے ہونے کی خوشی میں اس سڑک کا نام الحاج نذیر احمد علی سٹریٹ رکھ دیا ہے اور وہ سڑک آگے جا کر دو بڑی سڑکوں سے ملتی ہے۔تو اس جنکشن کا نام بھی کچھ اور تھا انہوں نے اب اس جنکشن کا نام بھی الحاج نذیر احمد علی جنکشن رکھ دیا ہے۔ہر جگہ خدا تعالیٰ غیر معمولی عزت افزائیاں فرما رہا ہے جماعت کی اور مبلغ وغیرہ سب لکھتے ہیں کہ ہمیں تو نہیں کچھ سمجھ آتی کہ ہو کیا رہا ہے ہماری تو عقل سے بالا ہیں یہ باتیں۔یوگنڈا میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اسی قسم کے بے شمار واقعات ہو رہے ہیں۔راجہ نصیر احمد صاحب ناصر نے اپنی رپورٹ میں ایک جگہ لکھا کہ ہمارے دائین نے مائیو گوے نامی گاؤں کے کئی دورے کئے۔وہاں تبلیغی مجالس ہوئیں۔اب خدا کے فضل سے تینتالیس (۴۳) افراد وہاں شامل ہوئے ہیں اور ایک مسجد بھی ساتھ لائیں ہیں اور دو ایکڑ زمین بھی ساتھ لائے ہیں لیکن اس کے علاوہ جو ان کی رپورٹیں تھیں میرے پاس اس وقت وہ کاغذ نہیں رہے۔اس میں بیک وقت سینکڑوں کے قبول احمدیت