خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 554
خطبات طاہر جلد ۸ 554 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء سے سارے کا سارا علاقہ احمدیت کی آغوش میں آچکا ہے۔اس سے پھر دوسرے چیفس کی طرف سے پیغام ملنے شروع ہوئے کہ ہمارے پاس بھی آؤ اور ہمیں بھی ہدایت کا پیغام دو۔وہ مہم اب جاری ہے اور ایک اور چیف جو یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں وہ ایک ویسے کسی علاقے کے چیف تو نہیں ہیں لیکن ایک بڑی ہی منظم اور قربانی کرنے والی مذہبی جماعت کے راہنما ہیں اور اس کے جنرل سیکرٹری ہیں بانکو بانا (Banco Bana) غالبا اس کا نام ہے۔جب میں دورے پر سیرالیون گیا تو وہاں سے واپسی پر مجھے ایک خط ملا جو غالبا انہی کی طرف سے تھا کیونکہ وہ سیکرٹری بانکا بانا کی طرف سے تھا۔اس میں انہوں نے لکھا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے آپ کے دوروں کا اور بعض ایسے نشان ہمیں معلوم ہوئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت احمد یہ کچی ہے۔اس لئے ہماری طرف بھی توجہ کریں۔ہماری طرف بھی اپنے نمائندے بھیجیں۔ہم دس ہزار کی ایک جماعت ہیں جو اسلام سے گہری محبت رکھتی ہے اور منظم جماعت ہے۔ہمارے بڑوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ جہاں تک ظاہری اندازوں کا تعلق ہے یہ جماعت سچی ہے اس لئے ان سے رابطہ کیا جائے اور اگر گفتگو کامیاب ہو تو پھر با قاعدہ جماعتی طور پر اس جماعت میں شامل ہوا جائے۔چنانچہ جب میں نے مبلغ کو وہاں بھجوایا ان کے ساتھ چند دوستوں کو تو گفت وشنید کے بعد وہاں ان کی جماعت کے بعض حلقوں کی طرف سے قبولیت شروع ہوگئی اور یہ سلسلہ اب چل رہا ہے آگے۔یعنی یہ نہیں کہ سارے ملک کی طرف سے اکٹھا کسی نے اعلان کیا ہو۔افریقین لوگ بڑے سمجھدار ہیں اور باوجود اس کے کہ آپ کو شاید یہ تاثر ہو گا کہ بڑے لیڈروں کے پیچھے چُپ کر کے چلے جاتے ہیں یہ نہیں ہوتا۔پہلے لیڈ ر قبول کرتا ہے پھر وہ مواقع فراہم کرتا ہے اپنے ماننے والوں کو اور گفتگو کرواتا ہے اور دیکھتا ہے کہ مناسب ماحول میں امن کے ساتھ باقاعدہ گفت و شنید ہو اور کوئی نا جائز حرکت نہ ہو۔یہ وہ ضمانت دیتا ہے۔پھر اللہ کے فضل سے گاؤں گاؤں ایسی مجلسیں لگتی ہیں اور پھر گاؤں والے خود فیصلے کرتے ہیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔چنانچہ اب تک چار ہزاران کی جماعت کے احمدی ہو چکے ہیں اور باقی مسلسل ابھی کام جاری ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ وہاں سے بھی انشاء اللہ مزید کثرت سے بیعتوں کی اطلاع ملے گی۔