خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 553 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 553

خطبات طاہر جلد ۸ 553 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء جماعت کے قدم ترقی کی طرف روک نہیں سکے۔بالکل بے اختیار ہو کے رہ گئے ہیں اور ان کی مخالفت کے علی الرغم ان کے جماعت بڑھتی چلی جارہی ہے، پھیلتی چلی جارہی ہے اور جو خطبے میں دیتا ہوں اس موضوع پر وہ فوراً پہنچتے ہیں پاکستان کے مولویوں کے ذریعے رابطہ عالم اسلامی تک اور دوسری جگہوں پر۔پھر وہ شرارتیں سوچتے ہیں اور منصوبے باندھتے ہیں کہ اب تو انہوں نے بتا دیا ہے کہ کہاں ترقی ہو رہی ہے اب وہاں زور لگاؤ۔پہلے تو میں حکمت سے کام لیتا تھا پھر مجھے خیال آیا کہ یہ خدا پر چھوڑو حکمتیں اسی پر ہمارا تو کل ہے اگر وہ ترقی دے رہا ہے تو وہ یہ روک کیسے سکتے ہیں۔ان کو یہ تاب و تواں کہاں ہے کہ جس جماعت کو خدا ترقی دینے کے فیصلے کرلے اس کی ترقی کی راہ میں روک ڈال سکیں اور اس کی ترقی کی راہ میں حائل ہوسکیں۔پس مجھے اب کوئی پرواہ نہیں میں بتا دیتا ہوں کیا ہو رہا ہے کہاں ہو رہا ہے۔آؤ اور زور لگاؤ اپنا۔جو تمہارے لشکر ہیں وہ چڑھا لا ؤ لیکن میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم یقیناً ناکام و نا مرادر ہو گے۔خائب و خاسر رہو گے۔خدا نے جماعت احمدیہ کی ترقی کے فیصلے کر لئے ہیں اور یہ فیصلے جو آسمان کی تحریریں ہیں زمین پر پوری ہوتی ہوئی تعبیروں کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں۔کوئی دنیا کی طاقت اب آپ کی ترقی کو روک نہیں سکتی۔ہاں اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔اپنے اخلاص کی حفاظت کریں۔اپنے صبر کی حفاظت کریں۔اپنے عزم اور حوصلے کی حفاظت کریں۔سر بلند کرتے ہوئے غیر اللہ کے خوف کے بغیر خدا پر توکل کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ترقی کی تمام راہیں آپ کے لئے اب کشادہ کھلی پڑی ہیں اور یہ نئی صدی آپ کے لئے ایسے عظیم الشان پیغام لے کے آئی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ ترقیات کے نقشے خدا نے مختلف رنگ میں اس جلسے پر ہمیں دکھا دئے ہیں۔جو مختلف ممالک میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقیات ہو رہی ہیں میں نے ان میں سے سیرالیون کا ذکر کیا لیکن صرف سیرالیون کا قصہ نہیں ہے۔ہر ملک میں حیرت انگیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ایک مسمرہ چیف ڈم کے متعلق میں اس سے پہلے اعلان کر چکا ہوں کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ پہلے پیرا ماؤنٹ چیف کو توفیق عطا فرمائی پھر اس کے پیچھے اس کے ماننے والوں میں سے آٹھ ہزار کچھ سو ایک دفعہ ہوئے ، سات ہزار کچھ سو ایک دفعہ ہوئے اور اب وہ خدا کے فضل