خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 549 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 549

خطبات طاہر جلد ۸ 549 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء کیا۔مجھے جب پتا لگا تو میں نے نظارت اصلاح وارشاد کو کہا اس کو سمجھائیں یہ پاگل پن کی حرکت ہے ہمارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔یہ کوئی مباہلہ نہیں ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔خدا پابند نہیں ہے۔ہر شخص بڑیں مارتا رہتا ہے اس کے اوپر تقدیر خود بخود تو حرکت میں نہیں آتی۔اس نے اصرار کیا کہ نہیں میں تو ضرور کروں گا۔میں نے کہا اچھا پھر اس سے یہ کہیں جو باتیں میں نے لکھی ہیں کہ مولوی کہتے ہیں احمدیت یوں، احمدیت یوں ہے ، احمدیت یوں ہے ان کو با قاعدہ پھر اخبار میں شائع کرائے اور بتائے کہ یہ باتیں سب سچی ہیں۔تو اس نے کہا کہ نہیں وہ بھی نہیں۔میں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انکار کا مباہلہ کروں گا۔میں نے ان کو کہلا کے بھجوایا کہ اگر چہ اس شخص نے بغیر اجازت کے خود بخود یہ بات کی ہے لیکن اس کو کہیں کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حقیقۃ الوحی والے مباہلے کو وہ قبول کرنا چاہتا ہے تو اس کی شرطیں پوری کرے۔حقیقۃ الوحی پڑھے اور پڑھنے کے بعد جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے چند ملکی اخباروں میں اشتہار دے تا کہ اس کی کم سے کم نمائندگی تو کچھ ثابت ہو اور دنیا کو پتا لگے ورنہ ہر کس و ناکس کے لئے خدا ایسے نشان تو نہیں دکھایا کرتا۔اس نے یہ کتاب لے کے دو تین دن کے بعد واپس کی اور کہا میں نے پڑھ لی ہے لیکن دینے والے نے جب مجھ سے سوال کئے تو اس نے کہا کہ ہر بات کا جواب جھوٹا تھا اس کو پتا ہی نہیں کہ یہ کتاب ہے کیا۔یعنی نہ صرف یہ کہ پڑھی نہیں بلکہ جھوٹ بولے مسلسل اور اس کے جھوٹ بھی پکڑے گئے اور پھر جب کہا کہ اخبار میں شائع کرو تو اخبار میں کوئی شائع نہیں کروایا اور اس پہلے واقعہ سے اب اس کو ایک سال گزرا ہے اور وہ نہیں مرا تو وہاں جشن منارہے ہیں وہ لوگ کہ ہم جیت گئے۔میں نے ان کو کہلا کے بھجوایا کہ جس شخص کی موت کی خبر نہیں دی گئی اس شخص کی زندگی کیسے نشان بن گئی۔اگر ان میں کوئی شرافت اور حیا ہوتی تو جس موت کی خبر دی گئی تھی اس موت کے واقعہ ہونے پر اس وقت انہوں نے کیوں تو بہ نہیں کی ، کیوں احمدیت کی سچائی کا اعلان نہیں کیا۔اس کی موت کی خبر تو نہ میں نے دی نہ اس احمدی نے دی جس کے ساتھ یہ باتیں ہو رہی تھیں۔یک طرفہ بڑ تھی اور بس اور ضیاء الحق کی موت کی خبر، اس کی ہلاکت کی خبر اس سے تین چار دن پہلے مجھے خدا تعالیٰ نے بتائی اور میں نے ان خطبہ میں اعلان کے ساتھ ، وضاحت کے ساتھ کہا کہ نہ صرف یہ کہ چونکہ یہ شرارت میں آگے بڑھ گیا ہے اس لئے خدا کے نزدیک مباہلہ مقبول ہوا ہے بلکہ مجھے رات خدا نے یہ