خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 518
خطبات طاہر جلد ۸ 518 خطبه جمعه ۴ راگست ۱۹۸۹ء سفر کے دوران جہاں جماعت نے محبت سے، اخلاص سے خوش آمدید کہا وہاں الوداع کے مناظر بھی بڑے تکلیف دہ تھے لیکن جو پیچھے رہ گئے ان کے لئے تو یہ تکلیف لمبے عرصے تک محسوس ہوتی ہوگی لیکن ہم ایک تکلیف سے دوسری خوشی میں منتقل ہو رہے تھے۔ایک طرف جدائی کا احساس تھا تو دوسری طرف وہ جماعت جو منتظر ہوتی تھی اس کے ولولے، اس کے جذبے کو دیکھ کر ، اس کی محبت کو دیکھ کر وہ پہلا غم مٹ کر ایک دوسری خوشی میں تبدیل ہو جاتا تھا۔مسلسل یہ عرصہ اسی طرح گزرا اور جب بھی یہ واقعہ ہوتا تھا مجھے پچھلی جماعت یاد آتی تھی اور ان کی محبت اور ان کی تکلیف کے احساس سے ان کے لئے خاص طور پر دعا کی تحریک پیدا ہوتی تھی۔پس آپ بھی ان سب جماعتوں کو جو اس سفر میں خوشیاں بھی محسوس کرتی رہیں اور لکھی محبت میں تکلیف بھی محسوس کرتی رہیں ان کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔پھر باوجود اس کے کہ ان سے جدائی اپنی جگہ تکلیف دہ تھی لیکن ایک وقت ایسا آیا جبکہ پاکستان کے مخدوش حالات کی وجہ سے واپس آنے کو دل بہت تیزی سے چاہنے لگا ، بہت شدت سے چاہنے لگا کیونکہ یہاں جو احساس ہے رابطے کا جو سفر کے دوران کسی بھی ملک میں ویسا نہیں رہتا اور جب پریشانی کے حالات ہوں تو دل چاہتا ہے کہ انسان ایسے مرکز کی طرف لوٹے جہاں فوری روابط ہوں ، ہر وقت کی خبریں تازہ تازہ مل سکیں اور جو انسدادی کاروائی یا جو اس قسم کی اصلاحی کا روائی کرنے کی توفیق ہے وہ اختیار کی جاسکے۔تو یہ جب احساس زیادہ بڑھا تو اس وقت مجھے ایک دفعہ ۱۹۵۵۔۱۹۵۶ء کا انگلستان کا زمانہ یاد آگیا۔ان دنوں میں یہاں ایک انگریزی گانے کا بہت رواج تھا جسے Banana Boat Song کہا جاتا تھا۔وسطی امریکہ میں Banana Boat Song مشہور ایک گانا ہے جسے خاص ان کے اپنے تلفظ میں پڑھا جاتا ہے۔وہ گانا ان دنوں اتنا مشہور تھا کہ گلی گلی میں اس کی آوازیں آتی تھیں بلکہ سیر وتفریح کے لئے جاؤ تو لوگوں نے اپنے کیسٹس پلیئرز کے اوپر کیسٹس پلیئر تو غالبا نہیں تھے ان دنوں میں لیکن جو بھی تھا ٹیپ ریکارڈر وغیرہ اس کے اوپر لگائے ہوتے تھے۔شور پڑا ہوتا تھا اور وہ گانا یہ تھا اس کے ایک دو مصرعے صرف مجھے یاد ہیں کہ : Come Mr Tally man tell me Banana