خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 506
خطبات طاہر جلد ۸ 506 خطبہ جمعہ ۲۸ / جولائی ۱۹۸۹ء ہے کہ دوسرے کو خوش کریں اور ذہین ہونے کی وجہ سے ان کو طریقہ معلوم ہو جاتا ہے کون سی بار یکی اختیار کریں کہ دوسرا خوش ہو جائے گا۔ان کے کیمروں میں ، ان کی ویڈیوز میں ، ان کی کاروں میں Digits جتنی بھی بنائی جاتی ہیں وہ اس اخلاق کی ذہانت کے ساتھ جو بندھن پیدا ہوتا ہے اس کے نتیجے میں بنتی ہیں اور Digits کے معاملے میں یہ ساری دنیا کو لیڈ کر رہے ہیں۔کوئی چیز جاپانی ہو یہاں تک کہ ٹائلٹ میں بھی آپ چلے جائیں تو وہاں جاپانی ذہانت آپ کو دکھائی دے گی۔یہ چاہتے ہیں کہ خوش کریں اور کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے اور چونکہ ذہین ہیں اس لئے وہ رستہ سوچ لیتے ہیں کہ ہاں یہ ہم کریں گے تو یہ آرام رہے گا اور آنے والا، استعمال کرنے والا خوش ہوگا۔یہ خلق باقی قوموں میں نہیں ہے۔سخی ہیں، اعلیٰ اخلاق بھی پائے جاتے ہیں انفرادی طور پر لیکن قومی طور پر نہیں اور قومی طور پر ذہانت کا وہ معیار نہیں ہے جو جاپانی قوم میں پایا جاتا ہے۔اس لئے ان کو کوئی دنیا کی قوم شکست نہیں دے سکتی۔اب اگلا قدم یہ ہے کہ اگر ذہین ہیں تو خدا کا سچا تصور اگر پیش کیا جائے ، اگر مذہب کا ایسا تصور پیش کیا جائے جو عقلوں کو بھی مطمئن کرتا ہے تو یہ قو میں اس کو قبول کرنے کے لئے پہلے سے تیار بیٹھی ہیں۔آدھی جنگ تو یہ جیت چکے ہیں یعنی اخلاق کی جنگ اور عملی نمونہ سے یہ مسلمان ہو چکی ہیں اب اگلا قدم ہے خدا سے ان کا تعلق قائم کرنا وہ آپ کا کام ہے آپ یہ تعلق قائم کروا ئیں اور اسلام کو جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں ایک نہایت ہی معقول دلائل سے بھرا ہوا مذہب جو عقل اور منطق سے اپنی صداقت کو منوانے کی طاقت رکھتا ہے۔اس رنگ میں اگر آپ اسلام کو ان کے سامنے پیش کریں تو چونکہ ذہین (Intelligent) قومیں ہیں یہ اس اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں گی۔اگر ایسا آپ نے نہ کیا تو ان کی اگلی نسلیں مذہب سے اور ان اخلاق سے بھی دور ہٹ جائیں گی کیونکہ میں یہاں دیکھ رہا ہوں کہ مغربی قوموں کے بد اخلاق اور مادہ پرستی کے اثرات جاپان میں ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ان کی نئی نسلوں میں نہ صرف دہریت بڑی کھلم کھلا آرہی ہے ، مذہب سے دوری بلکہ ان کی نئی نسلوں میں مغربی چمک دمک سے متاثر ہونے کے رجحانات بڑھتے جارہے ہیں اور وہ گندی عادتیں جو وقتی لذت کی خاطر ان قوموں نے اختیار کی ہیں کہ جس طرح بھی ہو اپنی حیوانی تمناؤں کو پورا کیا جائے اور چاہے اس کے نتیجے میں سوسائٹی درہم برہم ہو جائے ، یہ رجحانات ان کی نوجوان نسلوں میں داخل ہونا شروع ہو چکے ہیں۔اس لئے اگر