خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 46
خطبات طاہر جلد ۸ 46 خطبه جمعه ۲۰/جنوری ۱۹۸۹ء میں نے اُس زمانے میں پیپلز پارٹی کے سیاستدانوں میں سے بعض سے بات کی اُن کو میں نے کہا کہ قانون میں یہ شق کیوں رکھی ہے تو انہوں نے کہا آپ نے کوئی ملک کا صدر بننا ہے یا آپ کی نیت کوئی چیف جسٹس بنے کی ہے، آپ کو کیا فرق پڑتا ہے۔میں نے کہا مجھے تو نہیں پڑتا کیونکہ کسی احمدی نے کبھی پاکستان کے صدر بنے کا یا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے کا خواب نہیں دیکھا لیکن آپ کو فرق پڑتا ہے اور قوم کو فرق پڑتا ہے اور پڑے گا۔یہ وہ آپ نے سوراخ رکھ لیا ہے جس سوراخ سے ملاں داخل ہو گا اور دن بدن آپ کے لئے ایک مصیبت کا موجب بنتا چلا جائے گا، ہمیشہ کے لئے ایک سردردی ہے جو آگے بڑھتی چلی جائے گی۔آپ کے لئے جان چھڑانی مشکل ہو جائے گی۔جب ایک دفعہ آپ نے اصول کا سودا کر لیا تو پھر آگے جا کر اور اصول قربان کرنے پڑیں گے۔میں نے اُن کو سمجھایا کہ جماعت احمدیہ میں سے کوئی بھی نہیں ہے جو یہ خواہش رکھتا ہو لیکن آپ یہ بتائیں کہ اس کے باوجود اگر ساری قوم یہ فیصلہ کرے کہ کوئی احمدی صدر ہونا چاہئے تو آپ کا یہ قانون کیوں روکے گا اُس کو پھر۔سیدھی اصولی بات یہ ہے کہ جمہوریت میں اکثریت کا فیصلہ جاری ہونا چاہئے۔اگر وہ اُن دائروں میں ہے جن دائروں سے جمہوریت کا تعلق ہے، یہ بنیادی شرط ہے۔تو اگر پاکستان کے جمہور چاہتے ہوں کہ کوئی احمدی مسلمان ملک کا صدر بن جائے تو کیوں اُس کو روکا جائے گا۔آپ کو کیا حق ہے کہ جو اُس وقت اقلیت ہو چکے ہوں گے اور اگر اکثریت یہ نہیں چاہتی تو خطرہ کیا ہے؟ اس قانون کے ہونے سے کیا فرق پڑ جائے گا۔اس لئے ایک ایسے فرضی خطرے کے خیال سے آپ نے اس شق کو رکھ لیا ہے بلکہ میں نے کہا کہ فرضی خطرہ بھی نہیں، مولوی کو خوش کرنے کی خاطر یہ جانتے ہوئے کہ کوئی ایسا خطرہ نہیں ہے آپ نے ایک شق اس قانون میں رکھ لی ہے جوشق یہاں نہیں ٹھہرے گی اور لازماً بات آگے بڑھے گی۔چنانچہ وہ سلسلہ تھا جو پھر اس کے بعد جاری ہوا اور وہ بات آگے بڑھ کر پھر جماعت احمدیہ کے متعلق آگے نہیں بڑھی بلکہ ساری قوم کے لئے آگے بڑھی اور یہ جو شریعت بل اور شرعی عدالتیں اور یہ تفریق در تفریق کے سلسلے، یہ مہاجر پاکستانی اور یہ غیر مہاجر پاکستانی ، یہ پنجابی پاکستانی ، یہ سندھی پاکستانی ، یہ افغان پاکستانی جو مہاجر بن کر آیا ہے یہ پٹھان پاکستانی جو پہلے سے یہاں بستا ہے۔جتنے تفریق در تفریق کے سلسلے تھے یہ دراصل اُسی وقت بنیادی طور پر قائم ہو چکے تھے یعنی پیج کے طور پر بوئے جاچکے تھے۔اس سارے تجربے سے گزر کے گیارہ سال کے دکھ اُٹھا کر کئی قسم کے خطرناک اور صبر آزما مراحل سے نکل کر یہ لوگ جو آج حکومت پر قابض ہوئے ہیں ان کی استطاعت دیکھیں کہ ان سب باتوں کو بھولنے